رکھتے ہوں گے ، ان کے درمیان کوئی خونی رشتہ نہ ہو گا مگر وہ ایک دوسرے سے صِرف رِضائے الٰہی کی خاطِر مَحبَّت کرتے اور تَعَلّق رکھتے ہوں گے ۔ بروزِ قِیامَت اللہ کریم ان کیلئے اپنے (عَرْش کے ) سامنے نور کے مِنْبَر رکھنے کا حکم فرمائے گااوران کا حساب بھی اُنہی منبروں پر فرمائے گا۔ لوگ تو خوفزدہ ہوں گے لیکن وہ بے خوف ہوں گے ۔ یہی نہیں بلکہ حضرت سَیِّدُنا زَاہِر بن حَرام رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ دیہات کے رہنے والے تھے ، وہ گاؤں سے حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے لئے ہدیہ لاتے تھے اور جب وہ واپس جانا چاہتے تو سرکارِ مدینہ، قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بھی انہیں سامان دیتے تھے ، آپ عَلَیْہِ السَّلَام فرماتے : زاہر ہمارے دیہاتی بھائی ہیں اور ہم زاہر کے شہری بھائی ہیں، آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ان سے بڑی مَحبَّت کرتے تھے ۔
مدنی مذاکروں اورمرکزی مجلسِ شوریٰ کے مدنی مشوروں سے ماخوذ یوم تعطیل اعتکاف کے متعلق مدنی پھول
٭ یومِ تعطیل اعتکاف کی ترکیب مَضْبُوط بنائی جائے ، اِس سے اطراف میں مدنی کام مضبوط ہوگا اور عُشر اِکٹھا کر نے کا مَوْقَع بھی ملے گا۔
________________________________
1 - تمهيد الفرش فی الخصال الموجبة لظلال العرش، ص ۱۸
2 - شرح السنه،کتاب البر و الصلة،باب المزاح،۷ / ۳۹۷،حدیث:۳۶۰۴
3 - بارہ مدنی کام،ص۴۵