تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نَبوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَاد فرمایا: مرد کا جَمَاعَت کے ساتھ نَماز ادا کرنا، گھر اور بازار میں نَماز ادا کرنے سے 25 درجے اَفْضَل ہے ، کیونکہ جب وہ اچھے طریقے سے وُضُو کر کے مَسْجِد جاتا ہے اور نِیَّت صِرف نَماز کی ہوتی ہے تو اس کے ہر قَدَم پر اللہ پاک اس کا ایک دَرْجَہ بُلَند فرماتا اور اس کی ایک خطا کو معاف فرماتا ہے ۔ جب وہ نَماز پڑھ لیتا ہے تو جب تک اپنی جگہ پر بیٹھا رہتا ہے فرشتے اس کے لئے دُعائے مَغْفِرَت کرتے رہتے ہیں اور کہتے ہیں: یا اللہ! اس کی مَغْفِرَت فرما، یا اللہ! اس پر رحم فرما۔ لِہٰذا جب تک تم میں سے کوئی نَماز کے اِنتِظار میں ہو تو وہ نَماز ہی میں ہوتا ہے ۔
یَوْمِ تَعْطِیل اِعْتِکَاف گناہوں سے بچنے کا ذَرِیْعَہ ہی نہیں نیکیاں کمانے کا بھی ذَرِیْعَہ ہے ، کہ اس میں مذکورہ حدیْثِ پاک پر بخوبی عَمَل کرنے کا مَوْقَع ملتا ہے ، کیونکہ اس میں اِعْتِکَاف کی نِیَّت سے جب مَسْجِد میں ٹھہرا جاتا ہے تو مَسْجِد میں ٹھہرنے کے سَبَب اَذَان دینے یا سن کر جواب دینے ، تکبیرِ اُولیٰ کے ساتھ باجَمَاعت نَماز پڑھنے اور ایک نَماز کے بعد دوسری نَماز کے اِنتِظار میں بیٹھے رہنے کا ثواب وغیرہ پانے کا مَوْقَع بھی ملتا ہے ۔
(7) نرمی و عاجزی کا سبب
میٹھے میٹھے اِسْلَامی بھائیو! یَوْمِ تَعْطِیل اِعْتِکَاف میں شِرْکَت کی بَرَکَت سے تکبُّر کی کاٹ ہوتی اور عاجِزی پیدا ہوتی ہے ، کیونکہ تکبُّر کی ایک عَلامَت یہ ہے کہ مُتَکَبِّر آدمی دوسروں کی مُلَاقَات کے لئے نہیں جاتا، اگرچہ اس کے جانے سے دوسرے کو دِینی فائدہ ہی
________________________________
1 - بخاری،کتا ب الاذان،با ب فضل صلاة الجماعة،ص۲۲۴،حديث:۶۴۷