میں جاری مَدَنی حلقے میں شرکا اسلامی بھائیوں کو وُضُو، غسل، نَماز کے فرائض و واجبات کے ساتھ ساتھ ڈھیروں سنّتیں اورآداب سیکھے سکھائے جاتے ہیں۔ بِلاشبہ علم دِین سیکھنے سکھانے کی بھی خوب برکتیں ہیں، حضرت سَیِّدُنا عیسٰی رُوْحُ اللہ عَلٰی نَبِیِّنَا وَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے مَنْقُول ہے کہ جس نے عِلْم حاصِل کیا، اس پر عَمَل کیا اور دوسروں کو سکھایا تو آسمانوں کی سَلْطَنَت میں اسے عظیم کہا جاتا ہے ۔
(4) مساجد کی آبادکاری کا ذریعہ
فرمانِ مُصْطَفٰے صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہے : جب کسی شخص کو مَسْجِد کی خبرگیری کرتے دیکھو تو اس کے ایمان کی گواہی دینا۔ مَشْہُور مُفَسِّرِ قرآن، حکیم الاُمَّت مفتی احمد یار خان رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ مَسْجِد کی خبرگیری کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ( یعنی) ہر نَماز کیلئے وہاں حاضِر ہو، وہاں کی صفائی کرے ، مُرمَّت کا خیال رکھے ، جائز زِیْنَت میں مَشْغُول ہو، وہاں بیٹھ کر دِینی مسائل بیان کرے ، وہاں دَرْس دے ، یہ سب مَسْجِد کی خَبَرگیری میں داخِل ہیں۔ کیونکہ یہ چیزیں اِیمان کی علامتیں ہیں۔ مگر افسوس! غَفْلَت کے اس دور میں جہاں شہروں کی مَسَاجِد میں نمازیوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے وہیں بعض گاؤں دیہات میں نَماز پڑھنے والا تو ایک طرف نَماز پڑھانے والا ہی کوئی نہیں۔
________________________________
1 - الزھد للامام احمد بن حنبل، من مواعظ عیسی علیه السلام، ص۵۲،حدیث:۳۳۰
2 - ترمذی،کتاب الایمان،باب ماجاء فی حرمة الصلاة،ص۶۱۷،حدیث:۲۶۱۶
3 - مراۃ المناجیح، باب مسجدوں اور نماز کے مقامات کا بیان، دوسری فصل،۱ / ۴۴۴