(2) نیکی کی دعوت کی فضیلت پانے کا ذَرِیْعَہ
یَوْمِ تَعْطِیْل اِعْتِکَاف کے ذَرِیعے شہر کے کمزور علاقوں اور اَطراف گاؤں وغیرہ میں جا کر نیکی کی دَعْوت پیش کی جاتی اور عِلْمِ دین سکھانے کی کوشش کی جاتی ہے ، جس کا فائدہ نہ صِرف اپنی ذات بلکہ دوسروں کو بھی ہوتا ہے ، جس کے مُتَعَلِّق مَشْہُور مُفَسِّرِ قرآن، حکیم الاُمَّت مفتی احمد یار خان رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: تمام عبادتوں کا فائدہ خود اپنے کو (یعنی اپنی ذات کو) ہوتا ہے مگر تبلیغ کا فائدہ دوسروں کو بھی۔ لازِم (یعنی صِرف اپنی ذات کو فائدہ پہنچانے والے عَمَل) سے مُتَعَدِّی (ایسا عَمَل جو دوسروں کو بھی فائدہ دے وہ) اَفْضَل ہے ۔
ایک رِوایَت میں ہے کہ جس نے کسی کو بھلائی کی دَعْوَت دی تو اسے اِس بھلائی کی پَیْرَوِی کرنے والوں کے برابر ثواب ملے گا اور ان کے اجر میں کوئی کمی واقِع نہ ہوگی اور جس نے کسی کو گمراہی کی دَعْوَت دی اسے اس گمراہی کی پَیْرَوِی کر نے والوں کے برابر گناہ ہوگا اور ان کے گناہوں میں کمی نہ ہوگی۔
عطا کردو مجھے اِسْلام کی تبلیغ کا جذبہ میں بس دیتا پھروں نیکی کی دَعْوت یَارَسُولَ اللہ
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُتَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
(3) فروغِ علم دِین کا بہترین ذریعہ
یوم تعطیل اعتکاف فروغِ علم دِین کا بھی ایک بَہُت بڑا ذَرِیْعَہ ہے ، وہ یو ں کہ مَسْجِد
________________________________
1 - تفسیرِ نعیمی،پ۴، آل عمران، تحت الآیۃ: ۱۰۴، ۴ / ۸۰
2 - مسلم،کتاب العلم،باب من سن حسنة ... .الخ،ص۱۴۳۸،حدیث:۲۶۷۴
3 - وسائل بخشش (مرمّم)،ص۳۳۳