Brailvi Books

یومِ تعطیل اعتکاف
13 - 42
 والے اَکْثَر لوگ نَماز کی شرائط سے غافِل ہیں تو گاؤں دیہات میں رہنے والوں کا حال کیا ہوگا؟ بَہَرحَال شہری ہوں یا دیہاتی لوگ سب اس صُورَتِ حال کا شِکار ہیں۔ لِہٰذا جہاں شہر کی ہر مَسْجِد اور محلّہ میں ایک ایسے فقیہ (یعنی مُعَلِّم) کا ہونا ضَروری ہے جو لوگوں کو دِین سکھائے ، وہیں ہر گاؤں میں بھی ایک فقیہ کا ہونا ضَروری ہے ، البتہ! ہر وہ فقیہ جو فَرْضِ عین کی ادائیگی کے بعد فَرْضِ کفایہ کے لئے فارِغ ہو اس پر واجِب ہے کہ وہ اپنے شہر کے قُرب و جَوَار میں بسنے والوں کے پاس جائے اور انہیں دِین اور شَریعَت کے فرائض سکھائے ۔ اگر کوئی ایک فقیہ یہ کام بجا لائے گا تو باقی تمام لوگوں سے فَرْض ساقِط ہو جائے گا، ورنہ اس کا وبال سب لوگوں پر ہو گا، عالِم پر اس وجہ سے ہو گا کہ اس نے باہَر جا کر اَحْکامِ شَریعَت سکھانے میں کوتاہی کی اور جاہل پر اس وجہ سے کہ اس نے سیکھنے میں کوتاہی کی۔ 
اطراف گاؤں اور دعوتِ اسلامی
میٹھے میٹھے اِسْلَامی بھائیو! اَلْحَمْدُ لِلّٰہ! عاشِقانِ رسول کی مَدَنی تحریک دَعْوَتِ اِسْلَامی بھی اپنے اَسلاف کے نقشِ قَدَم پر چلتے ہوئے گاؤں دیہات میں عِلْم کی شَمْع کو روشن کرنے کا عَزْم کئے ہوئے ہے ، چونکہ اس کا مَدَنی مَقْصَد  ہی یہ ہے کہ”مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اِصْلَاح کی کوشش کرنی ہے ۔ “اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ۔ لِہٰذا اس مَدَنی مَقْصَد کی تکمیل اَطراف اور گاؤں دیہات کے لوگوں کے بغیر مُمکِن نہیں، یہی وجہ ہے کہ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سنّت اور صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان اور سَلَف صَالِـحِین (بزرگانِ دِین) رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہِم



________________________________
1 -    احياء علوم الدين،کتاب الامر با لمعروف … الخ،الباب الثالث فی المنکرات…الخ،۲ / ۴۱۹ ملتقطًا