Brailvi Books

وُضو کا طریقہ (حنفی)
51 - 54
نہیں ہو سکتا اور اس کا پینا یا اس سے آٹا گوندھنا مکروہِ(تنزیہی) ہیخپَرایا پانی بے اجازت لے گیا اگر چِہ زبردستی یا چُرا کر اس سے وُضو ہو جائے مگر حرام ہے۔ البتّہ کسی کے مَملوک(یعنی ملکیَّت کے) کنویں سے اُس کی مُمانَعَت پر بھی پانی بھر لیا اس کا استِعمال جائز ہے خجس پانی میں مائے مُستَعمَل کی دھار پہنچی یا واضِح قطرے گرے اس سے وُضو نہ کرنا بہتر خ جاڑے میں وُضو کرنے سے سردی بَہُت معلوم ہو گی اس کی تکلیف ہو گی مگر کسی مرض کا اندیشہ نہیں تو  تَیَمُّم کی اجازت نہیں خشیطان کے تھوک اور پھونک سے نَماز میں قطرے اور رِیح  کاشُبہ ہو جاتا ہے، حکم ہے کہ جب تک ایسا یقین نہ ہو جس پر قسم کھا سکے اِس (وسوسے )پرلحاظ نہ کرے، شیطان کہے کہ تیرا وضو جاتا رہا تو دل میںجوا ب دے لے کہ خبیث تو جھوٹا ہے اور اپنی نَماز میں مشغول رہے خ مسجِد کو ہرگِھن کی چیز سے بچانا واجِب ہے اگر چِہ پاک ہو جیسے لُعابِ دَہَن(منہ کی رال،تھوک،بلغم) آب ِبینی ( مَثَلاًرِینٹھ یا ناک سے نزلے کا بہنے والا پانی) آبِ وُضوخ تَنبِیْہ: بعض لوگ کہ وُضو کے بعد اپنے منہ اور ہاتھوں سے پانی پونچھ کر مسجِد میں ہاتھ جھاڑتے ہیں (یہ) محض حرام اور ناجائز ہے۔خپانی میں پیشاب کرنا مُطلَقاً مکروہ ہے اگر چِہ دریا میں ہو خجہاں کوئی نَجاست پڑی ہو تِلاوت مکروہ ہیخپانی ضائِع کرنا حرام ہے خمال ضائِع کرناحرام ہیخزمزم شریف سے غسل و وُضو بِلا کراہت جائز ہے( اورپیشاب وغیرہ کر کے )ڈَھیلے (سے خشک کر لینے )  کے بعد(آبِ زم زم سے) اِستنجا مکروہ اور نَجاست دھونا(مثلاً پیشاب کے بعد ٹِشوپیپر وغیرہ سے سُکھائے بغیر)گناہخ(وہ )اِسراف کہ(جو) نا جائز و گناہ ہے (وہ)صرف (ان)دو صورَتوں میں ہوتا ہے، ایک یہ کہ کسی گناہ