کوئی فرض پورا کرنے سے مانِع(یعنی رُکاوٹ) ہوا تو وُضو ہی نہ ہوگا خ پانی بیکا ر صَرف(یعنی خرچ) کرنا یا پھینک دینا حرام ہے۔ (اپنے یا دوسر ے کے پینے کے بعد گلاس یا جگ کابچا ہوا پانی خواہ مخواہ پھینک دینے والے توبہ کریںاور آیندہ اِس سے بچیں)خ ناف سے زَرد پانی بہ کر نکلے وُضو جاتا رہیخخون یا پیپ آنکھ میں بہا مگر آنکھ سے باہَر نہ گیاتو وُضو نہ جائے گا اُسے کپڑے سے پونچھ کر پانی میں ڈال دیں تو (پانی) ناپاک نہ ہوگاخزَخم پر پٹّی بندھی ہے اُس میں خون وغیرہ لگ گیا اگر اس قابِل تھا کہ بندِش نہ ہوتی توبَہ جاتا تو وُضو گیا ورنہ نہیں ، نہ پٹّی ناپاک خقطرہ اُتر آیا یا خون وغیرہ ذَکَر (یعنی عُضو تَناسُل)کے اندر بَہا جب تک اُس کے سُوراخ سے باہَر نہ آئے وُضو نہ جائیگا اور پیشاب کاصِرف سوراخ کے منہ پر چمکنا (وُضو توڑنے کیلئے )کافی ہے خنابالِغ نہ کبھی بے وُضو ہو نہ جُنُب(یعنی بے غُسلا) ۔ انہیں(یعنی نابالغان کو) وُضو و غسل کاحکم عادت ڈالنے اورآداب سکھانے کے لیے ہے ورنہ کسی حَدَث (یعنی وضو توڑنے والے عمل)سے ان کا وُضونہیں جاتا نہ جِماع سے ان پر غسل فرض ہو خباوُضو نے ماں باپ کے کپڑے یا ان کے کھانے کے لیے پھل یا مسجِد کا فرش ثواب کے لیے دھویا پانی مُستَعمَل نہ ہوگا اگر چِہ یہ اَفعال قُربَت(یعنی رضائے الٰہی) کے ہیںخنابالغ کا پاک ہاتھ یا بدن کا کوئی جز اگرچہ بے وُضو ہو پانی میں ڈالنے سے قابلِ وُضو رہے گاخبدن سُتھرا رکھنا، مَیل دُور کرنا،شَرع میں مطلوب ہے کہ اسلام کی بِنا(یعنی بنیاد) سُتھرائی (یعنی پاکیزگی و صفائی)پر ہے۔ اِس نیّت سے باوُضو نے بدن دھویا تو قُربت(یعنی کارِ ثواب) بے شک ہے مگر پانیمُستَعمَل نہ ہوا خمُستَعمَل پانی پاک ہے اس سے کپڑا دھو سکتے ہیں مگر اس سے وُضو