اور غسل میں تو ایسا نہ ہو تو سِرے سے نہ غسل ہو گا نہ نَماز خوُضو میں ہرعُضو کاپورا تین بار دھونا سنَّتِ مُؤَکَّدہ ہے،تَرک کی عادت سے گنہگار ہو گا خوُضو میں جلدی نہ چاہئے بلکہ دَرَنگ (یعنی اطمینان )و احتیاط کے ساتھ کرے۔ عوام میںجو مشہور ہے کہ’’ وُضو جوانوں کا سا، نماز بوڑھوں کی سی‘‘ یہ وُضو کے بارے میں غَلَط ہے خمُنہ دھونے میں نہ گالوں پر ڈالے نہ ناک پر نہ زور سے پیشانی پر، یہ سب افعال جُہّال(یعنی جاہلوں) کے ہیں بلکہ باآہِستگی بالائے پیشانی(یعنی پیشانی کے اُوپر) سے ڈالے کہٹھوڑی سے نیچے تک بہتا آئے خوُضو میں منہ سے گرتا ہوا پانی مَثَلاً کلائی پر لیا اور(کلائی پر) بَہا لیا(یعنی منہ دھونے میں منہ سے گرنے والے پانی سے ہاتھ کی کلائی نہیں دھو سکتے کہ) اِس سے وُضو نہ ہوگا اور غسل میں(مُعاملہ جُدا ہے) مَثَلاً سر کا پانی پائوں تک جہا ں جہاں گزرے گا پاک کرتا جائیگا وہاں نئے پانی کی ضَرورت نہیں خ آدَمی وُضو کرنے بیٹھا پھر کسی مانِع (یعنی رُکاوٹ) کے سبب تمام(یعنی مکمَّل) نہ کر سکا تو جتنے اَفعال کیے اُن پر ثواب پائیگا اگر چِہ وُضو نہ ہواخجس نے خود ہی قَصد(یعنی ارادہ) کیا کہ آدھا وُضو کرے گا وہ ان اَفعال پر ثواب نہ پائیگا، یُونہی جو وُضو کرنے بیٹھا اور بِلا عُذر ناقِص(یعنی ادھورا) چھوڑدیا وہ بھی جتنے اَفعال بجا لایا اُن پر مستحقِ ثواب نہ ہونا چاہییخاگر سر پر مینہ(یعنی بارِش) کی بُوندیں اِتنی گریںکہ چہارُم (یعنی چوتھائی ) سر بھیگ گیا مَسح ہو گیا اگر چِہ اس شخص نے ہاتھ لگایا نہ قَصد(یعنی نہ نیّت وارادہ )کیا خ اَوس (یعنی شبنم) میں سر بَرَہنہ(یعنی ننگے سر) بیٹھا اور اُس سے چہارُم سر کے قَدَ ر بھیگ گیا مَسح ہو گیا خ اتنے گَرم یا اتنے سر د پانی سے وُضو مکروہ ہے جو بدن پر اچّھی طرح نہ ڈالا جائے، تکمیلِ سنّت نہ کرنے دے، اور اگر