{14} کھانا کھانے ،چائے یا کوئی مشروب پینے ،پھل کاٹنے وغیرہ مُعامَلات میں خوب احتیاط فرمائیے تاکہ ہر دانہ، ہرغذا ئی ذرّہ اور ہر قطرہ استِعمال ہوجائے ۔
40مَدَنی پھولوں کا رضوی گلدستہ
(تمام مدنی پھول فتاوٰی رضویہ مخرجہ جلد 4 کے آخرمیں دیئے ہوئے’’ فوائدِ جلیلہ‘‘ صفحہ 613تا746سے لئے گئے ہیں)
خوُضو میں آنکھیں زور سے نہ بند کرے مگر وُضو ہو جائے گا خاگر لب (یعنی ہونٹ) خوب زور سے بند کر کے وُضو کیا اور کُلّی نہ کی وُضو نہ ہو گاخوُضو کا پانی روزِ قِیامت نیکیوں کے پلّے میں رکھا جائیگا۔(مگریاد رہے ! ضَرورت سے زیادہ پانی گرانا اِسراف ہے) خمِسواک موجود ہو تو اُنگلی سے دانت مانجنا ادائے سنّت وحُصُولِ ثواب کے لیے کافی نہیں ، ہاں مسواک نہ ہو تو اُنگلی یا کَھر کَھرا(یعنی کُھردَرا) کپڑا اَدائے سنَّت کر دے گا اور عورَتوں کے لیے مِسواک موجود ہو جب بھی مِسّی کافی ہیخانگوٹھی ڈِھیلی ہو تو وُضو میں اُسے پھرا کر پانی ڈالنا سنَّت ہے اور تنگ ہو کہ بے جُنبِشدئیے پانی نہ پہنچے تو فرض۔ یِہی حکم بالی(یعنی کان کے زَیور) وغیرہ کا ہے خاعضاء کامَل مَل کر دھونا وُضو اور غسل دونوں میں سنَّت ہیخ اَعضاءِ وُضو دھونے میں حدِّ شَرعی سے اِتنی خفیف تحریر(یعنی ہر طرف سے معمولی سا) بڑھانا جس سے حدِّ شَرعی تک اِستِیعاب (یعنی مکمَّل ہونے)میں شُبہ نہ رہے واجِب ہے خوُضو میں کُلّی یا ناک میں پانی ڈالنے کاتَرک مکروہ ہے اور اس کی عادت ڈالے تو گُنہگار ہو گا ۔ یہ مسئلہ وہ لوگ خوب یادرکھیں جو کُلیاں ایسی نہیں کرتے کہ حَلق تک ہر چیز کو دھوئیں اوروہ کہ پانی جن کی ناک کو(فَقَط) چُھو جاتا ہے سُونگھ کر اوپر نہیں چڑھاتے یہ سب لوگ گنہگار ہیں