جب نورہ کا استِعمال فرماتے تو سَتْرِ مقدّس پر اپنے دستِ مبارَک سے لگاتے اور باقی بدنِ منوَّر پر اَزْوَاجِ مُطہَّرات رضی اللہ تعالٰی عَنْھُنَّلگادیتیں ۔ ( اِبن ماجہج۴ص۲۲۶ حدیث ۳۷۵۱)
اور ایسا نہ کریں تو دھونے سے پہلے پانی سے خوب بِھگولیں کہ سب بال بِچھ جائیں ورنہ کھڑے بال کی جَڑ میں پانی گزر گیا اور نوک سے نہ بہا تو وُضو نہ ہوگا۔
{6}دست و پا( ہاتھ و پاؤں) پراگر لوٹے سے دھار ڈالیں تو ناخنوں سے کہنیوں یا( پاؤں کے )گَٹّوں کے اوپر(یعنی ٹخنوں) تک عَلَی الْاِتِّصال( یعنی مسلسل ) اُتاریں کہ ایک بار میں ہر جگہ پر ایک ہی بار گرے، پانی جبکہ گررہاہے اور ہاتھ کی رَوانی( ہل جُل) میں دیر ہوگی تو ایک جگہ پر مکرَّر ( یعنی بار بار) گرے گا ۔( اور اس طرح اِسراف کی صورت پیدا ہو سکتی ہے)
{7} بعض لوگ یوں کرتے ہیں کہ ناخن سے کُہنی تک یا( پاؤں کے) گٹّے تک بہاتے لائے پھر دوبارہ سہ بارہ کیلئے جو ناخن کی طرف لے گئے تو ہاتھ نہ روکا بلکہ دھار جاری رکھی ایسا نہ کریں کہ تثلیث کے عوض(یعنی تین بار کے بجائے) پانچ بار ہوجائے گا بلکہ ہربار کُہنی یا( پاؤں کے )گٹّے تک لاکر دھار روک لیں اور رُکا ہوا ہاتھ ناخنوں تک لے جاکر وہاں سے پھر اِجرا ء ( پانی جاری) کریں کہ سنَّت یِہی ہے کہ ناخن سے کُہنیوںیا گَٹّو ں(ٹخنوں) تک پانی بہے نہ اس کا عکس۔(یعنی الٹ۔مطلب یہ کہ کہنی یا گَٹّے سے ناخنوں کی طرف پانی بہاتے ہوئے لے جانا سنّت نہیں )
قولِ جامِع یہ ہے کہ سلیقے سے کام لیں ۔امامِ شافِعی رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہنے کیا خوب فرمایا:’’سلیقے سے اُٹھاؤ تو تھوڑا بھی کافی ہوجاتا ہے اور بد سلیقگی پر تو بہت( سا) بھی کِفایت