{2}ہرچُلّو بھرا ہونا ضَروری نہیں بلکہ جس کام کیلئے لیں اُس کا اندازہ رکھیں مَثَلاً ناک میں نَرم بانسے(یعنی نرم ہڈی) تک پانی چڑھانے کوپورا چُلّو کیا ضَرور نِصف (یعنی آدھا)بھی کافی ہے بلکہ بھرا چُلّو کُلّیکیلئے بھی درکار نہیں۔
{3} لوٹے کی ٹونٹی مُتَوسِّط مُعتَدِل (یعنی درمِیانی)چاہئے کہ نہ ایسی تنگ کہ پانی بَدیَر ( یعنی دیر میں ) دے نہ فراخ( یعنی کُشادہ) کہ حاجت سے زِیادہ گرائے، اس کا فرق یُوں معلوم ہوسکتا ہے کہ کٹوروں میں پانی لے کر وُضو کیجئے تو بَہُت خرچ ہوگا یونہی فراخ( یعنی کُشادہ ) ٹونٹی سے بہانا زِیادہ خرچ کا باعث ہے۔ اگر لوٹا ایسا ( یعنی کُشادہ ٹونٹی والا)ہو تو احتیاط کرے پُوری دھار نہ گرائے بلکہ باریک۔(نل کھولنے میں بھی انہیں باتوں کا خیال رکھئے)
{4}اَعضاء دھونے سے پہلے اُن پر بھیگا ہاتھ پھیرلے کہ پانی جلد دوڑتا ہے اور تھوڑا ( پانی )، بَہُت(سے پانی ) کا کا م دیتا ہے ،خصوصاً موسِمِ سرما( یعنی سردیوں) میں اِس کی زِیادہ حاجت ہے کہ اَعضاء میں خشکی ہوتی ہے اور بہتی دھار بیچ میں جگہ خالی چھوڑدیتی ہے جیسا کہ مُشاہَدہ(یعنی دیکھی بھالی بات) ہے ۔
{5}کلائیوں پر بال ہوں تو تَرشوا(یعنی کٹوا)دیں کہ اُن کا ہونا پانی زِیادہ چاہتاہے اورمُونڈنے سے بال سخت ہوجاتے ہیں اور تَراشنا مشین سے بہتر کہ خوب صاف کردیتی ہے اور سب سے احسن و افضل نورہ( ایک طرح کا بال صفا پاؤڈر) ہے کہ ان اَعضاء میں یِہی سنّت سے ثابِت ۔ چُنانچِہ
امُّ المؤمنینسیِّدَتُنا امِّ سَلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْھا فرماتی ہیں : صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم