ولیِ نِعمت،عظیمُ البَرَکت، عظیمُ المَرْتَبت،پروانۂِ شمعِ رِسالت،مُجَدِّدِ دین ومِلَّت، حامیِ سنّت ، ماحِیِ بِدعت، عالِمِ شَرِیْعَت ، پیرِ طریقت،باعثِ خَیْر وبَرَکت، حضرتِ علّامہ مولانا الحاج الحافِظ القاری شاہ امام اَحمد رَضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرحمٰن فرماتے ہیں: اگروَقف پانی سے وُضو کیا تو زِیادہ خَرچ کرنا باِلاِتِّفاق حرام ہے کیوں کہ اِس میں زِیادہ خَرچ کرنے کی اجازت نہیں دی گئی اور مدارِس کا پانی اِسی قسم کا ہوتا ہے جو کہ صرف ان ہی لوگوں کیلئے وَقف ہوتا ہے جو شَرْعی وُضو کرتے ہیں ۔ (فتاوٰی رضویہ مُخَرَّجہ ج۱ص۶۵۸)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!جو اپنے آپ کو اِسراف سے نہیں بچا پاتا اُسے چاہئے کہ مَملو کہ ( یعنی اپنی مِلکِیت کے ) مَثَلاً اپنے گھر کے پانی سے وُضو کرے۔ مَعَاذَ اللہ عَزَّ وَجَلَّاس کا یہ مطلب نہیں کہ ذاتی پانی کے اِسراف کی کُھلی چھوٹ ہے بلکہ گھر میں خوب مَشق کرکے شَرعی وُضو سیکھ لے تاکہ مسجِد کے پانی کا اِسراف کرکے حرام کا مُرتکب نہ ہو۔
احمد رضا کے سات حروف کی نسبت سے اعلی حضرت
کی طرف سے اسراف سے بچنے کی 7 تدابیر
{1} بعض لوگ چُلّو لینے میں پانی ایسا ڈالتے ہیں کہ اُبل جاتا ہے حالانکہ جو گرا بیکا ر گیا اس سے احتیاط چاہئے ۔