بُرا کیا، ظُلم کیا
ایک اَعرابی نے خدمتِ اقدس حُضورسیِّدِ عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میں حاضِر ہوکر وُضو کے بارے میں پوچھا :حُضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اُنہیں وُضو کرکے دِکھایا جس میں ہَر عُضْوْ تین تین بار دھویا پھر فرمایا:وُضو اِس طرح ہے ،تو جو اِس سے زائد کرے یا کم کرے اُس نے بُرا کیا اور ظُلم کیا ۔ (سُنَنِ نَسائی ص۳۱حدیث۱۴۰)
اِسراف صرف دو صورتوں میں ہی گناہ ہے
میرے آقااعلیٰ حضرت امام احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرحمٰن لکھتے ہیں: یہ وعید اس صورت میں ہے کہ جب یہ اِعتِقاد رکھتے ہوئے زیادہ کرے کہ زیادہ کرناہی سنّت ہے ۔اور اگر تثلیث (یعنی تین بار دھونے) کو سنّت مانا اور وُضو پر وُضو کے ارادے یا شک کے وقت اطمینانِ قلب کے لئے یا تبرید (تَب۔رِید یعنی ٹھنڈک کے حُصول)یاتَنظِیف(تَن۔ظِیف یعنی صفائی) کے لیے زیادہ کیا یاکسی حاجت کی وجہ سے کمی کی تو کوئی حَرَج نہیں۔صرف دو صورتوں میں اِسراف ناجائز و گناہ ہوتا ہے ایک یہ کہ کسی گناہ میں صَرف و استعمال کریں، دوسرے بیکار محض مال ضائع کریں۔وُضو وغسل میں تین بار سے زائد پانی ڈالنا جب کہ غَرَضِ صحیح(یعنی جائز مقصد) سے ہو ہر گز اِسراف نہیں کہ جائز غَرَض میں خَرچ کرنانہ خود مَعصِیَت(یعنی نافرمانی) ہے نہ بیکار اِضاعت(یعنی ضائِع کرنا)۔(فتاوٰی رضویہ ج۱ جزب ص۹۴۰ تا ۹۴۲)
عملی طور پر وُضو سیکھئے
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اِس حدیثِ پاک سے معلوم ہوا کہ سکھانے کیلئے خود عملی طور