Brailvi Books

وُضو کا طریقہ (حنفی)
39 - 54
{3}اِسراف شیطانی کام ہے
         حضرت سیِّدُنااَنَس رضی اللہ تعالٰی عنھسے رِوایت ہے :وُضُو میں بَہُت ساپانی بہانے  میں کچھ خیر (بھلائی )نہیں اور وہ کام شیطان کی طرف سے ہے ۔ 
				(کَنْزُ الْعُمّال ج۹ص۱۴۴حدیث۲۶۲۵۵ )
{4}جنّت کا سفیدمَحَل مانگنا کیسا؟
     حضرتِ سیِّدُنا عبد اللّٰہ ابنِ مُغَفَّل رضی اللہ تعالٰی عنھسے نے اپنے بیٹے کواِس طرح دعا مانگتے سنا کہ الٰہی عَزَّ وَجَلَّ! میں تجھ سے جنّت کا داہنی (یعنی سیدھی) طرف والا سفید مَحَل مانگتا ہوں ۔ تو فرمایا کہ اے میرے بچّے! اللہ عَزَّ وَجَلَّ  سے جنّت مانگو اور دوزخ سے اُس کی پناہ مانگو۔ میں نے رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو فرماتے سنا کہ اِس اُ مّت میں وہ قوم ہوگی جو وُضو اور دُعامیں حد سے تجاوز کیاکرے گی ۔    		   (سُنَنِ ابوداوٗد ج۱ص۶۸حدیث۹۶)
       مُفَسِّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضر  تِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُاللہِ  الحَنّان اِس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں:دعامیں تجاوُز( یعنی حد سے بڑھنا)تو یہ ہے کہ ایسی بات کا تعیّن کیا جائے جس کی ضَرورت نہیں جیسے ان کے صاحبزادے نے کیا۔ فردوس( جو کہ سب سے اعلیٰ جنّت ہے اُس کا) مانگنا بَہُت بہتر ہے کہ اِس میں شخصی تعیّن(یعنی اپنی طرف مقرَّر کرنا) نہیں نوعیتَقَرُّر (نوع یعنی قِسم مقرَّر کرنا) ہے اس کا حکم دیا گیا ہے۔            (مِراٰۃالمناجیح ج۱ص۲۹۳)