Brailvi Books

وُضو کا طریقہ (حنفی)
38 - 54
وَلَا تُسْرِفُوۡا ؕ اِنَّہٗ لَایُحِبُّ الْمُسْرِفِیۡنَ ﴿۱۴۱﴾ۙ    (پ ۸،الانعام:۱۴۱)
(ترجَمۂ کنز الایمان : بے شک بے جا خرچنے والے اسے پسند نہیں۔)
   مُطلَق ہے تو یہ اِسراف بھی مذموم و ممنوع ہی ہوگا بلکہ خود اِسراف فی الوُضو میں بھی  صِیغۂ نَہی وارِد اور نَہی حقیقۃً مُفیدِ تَحریم۔ (یعنی وضو میں اسراف کی نہی (مُمانَعَت) کا حکم آیا ہے اور حقیقت میں مُمانَعَت کا حکم حرام ہونے کا فائدہ دیتا ہے)       (فتاوٰی رضویہ مُخَرَّجہ ج۱ص۷۳۱)
مفتی احمد یا ر خان کی تفسیر 
	مُفسّرِ شہیر حضرتِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُاللہِ  الحَنّان اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ کے فتویٰ میں پیش کردہ سُوْرَۃُ الانعام کی آیتِ کریمہ نمبر 141کے تَحت بے جا خَرچ ( یعنی اِسراف)کی تفصیل بیان کرتے ہوئے رقم طَراز ہیں:’’ناجائز جگہ پر خَرچ کرنا بھی بے جا خَرچ ہے اور سارا مال خَیرات کرکے بال بچّوں کو فقیر بنا دینا بھی بے جا خرچ ہے ،ضَرورت سے زِیادہ خرچ بھی بے جا خرچ ہے اِسی لئے اَعضائے وُضو کو (بلا اجازتِ شَرعی) چار بار دھونا اِسراف مانا گیا ہے ۔ ‘‘           		  
(نورُالعرفان ص۲۳۲)
{2}اِسراف نہ کر
     حضرتِ سیِّدُنا عبد اللّٰہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنھما فرماتے ہیں : اللہ عَزَّ وَجَلَّ  کے محبوب ،  دانائے غُیُوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیُوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ایک شخص کو وُضو کرتے دیکھا ،فرمایا:اِسراف نہ کر اِسراف نہ کر ۔  (سُنَنِ اِبن ماجہج۱ص۲۵۴حدیث ۴۲۴ )