وُضومیں پانی کا اِسراف
آج کل اکثر لوگ وُضُو میں تیز نل کھول کربے تَحاشہ پانی بہاتے ہیں ، حتیّٰ کہ بعض تو وُضو خانے پر آتے ہی نل کھو ل دیتے ہیں، اس کے بعد آستین چڑھاتے ہیں، اُتنی دیر تک مَعَاذَ اللہ عَزَّ وَجَلَّپانی ضائِع ہوتا رہتا ہے ،اِسی طرح مَسْح کے دَوران اکثریت نل کھلا چھوڑ دیتی ہے!ہم سب کو اللہ عَزَّ وَجَلَّسے ڈر کر اِسراف سے بچنا چاہئے ،قِیامت کے روز ذرّے ذرّے اور قطرے قطرے کا حساب ہوگا ۔ اِسراف کی مَذَمَّت میں چار احادیثِ مبارَکہ سنئے اور خوفِ خدا وندی عَزَّ وَجَلَّ سے لرزئیے:
{1}جاری نَہر پر بھی اسراف
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے رسول، رسولِ مقبول، سیِّدہ آمِنہ رضی اللہ تعالٰی عنھا کے گلشن کے مہکتے پھول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمحضرتِ سیِّدُنا سَعد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ پر گزرے تووہ وضو کررہے تھے۔ ارشاد فرمایا:یہ اِسراف کیسا؟ عرض کی:کیا وُضو میں بھی اِسراف ہے ؟ فرمایا:’’ہاں اگرچِہ تم جاری نَہر پر ہو۔‘‘ (سُنَنِ اِبن ماجہج۱ص۲۵۴حدیث۴۲۵)
اعلٰی حضرت کا فتوٰی
میرے آقا اعلیٰ حضرت ،امامِ اہلسنّت رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہاِس حدیثِ پاک کے تَحت فرماتے ہیں :حدیث نے نَہرِ جاری میں بھی اِسراف ثابِت فرمایا اور اِسراف شَرع میں مذموم ہی ہوکر آیا ہے ۔آیۂ کریمہ :