Brailvi Books

وُضو کا طریقہ (حنفی)
36 - 54
 بے وُضو چُھوناحرام ہے(بہارِ شریعت ج۱ص۳۲۶،۳۲۷ وغیرہ) {7} آیت کوبے چُھوئے دیکھ کر یا زَبانی بے وُضو پڑھنے میں حَرَج نہیں ۔
آیت لکھے  ہوئے کاغذ کے پچھلے حصّے کے چھونے کا اَہم مَسئَلہ
	کتاب یا اخبار میں جس جگہ آیت لکھی ہے خاص اُس جگہ کو بلا وضو ہاتھ لگانا جائز نہیں اُسی طرف ہاتھ لگایاجس طرف آیت لکھی ہے خواہ اس کی پشت پر(یعنی لکھی ہوئی آیت کے عین پیچھے) دونوں ناجائز ہیں( آیت یا اُس کے عین پچھلے حصّے کے عِلاوہ)، باقی وَرَق کے چُھونے میں حَرَج نہیں، پڑھنا بے وُضو جائز ہے۔ نہانے کی حاجت ہو تو (پڑھنا بھی)حرام ہے۔ وَاللّٰہ تعالٰی اَعلم۔   			   (فتاوٰی رضویہ مُخَرَّجہ ج۴ص۳۶۶)  
بے وضو قرانِ مجید کو کہیں سے بھی نہیں چھو سکتا 
	بے وُضو آیت کوچُھونا تو خود ہی حرام ہے اگرچِہ آیت کسی اور کتاب میں لکھی ہو مگر قراٰنِ مجید کے سادہ حاشیہ بلکہ پٹھوں بلکہ چولی(یعنی جو کپڑا یا چمڑا گتّے کے ساتھ چپکا یا سلا ہواس) کا بھی چُھونا حرام ہے ہاں’’ جُزدان‘‘ میں ہو تو جُزدان کو ہاتھ لگا سکتا ہے۔بے وُضو اپنے سینے سے بھی مُصحَف شریف کو مَس نہیں کر(یعنی چُھو نہیں) سکتا۔بے وُضو کی گردن پر لمبی چادر کا ایک کونا پڑا ہوا ہے اور وہ اس کے دوسرے کونے کو ہاتھ پر رکھ کر مصحف شریف چُھونا چاہے اگر چادر اتنی لمبی ہے کہ اُس شخص کے اٹھنے بیٹھنے سے دوسرے گوشے(یعنی کونے) تک حرکت نہ پہنچے گی تو جائز ہے ورنہ نہیں۔	         	 (فتاوٰی رضویہ مُخَرَّجَہ   ج۴ ص ۷۲۴،۷۲۵)