Brailvi Books

وُضو کا طریقہ (حنفی)
34 - 54
 {3} جب  عُذر ثابِت ہو گیا تو جب تک نَماز کے ایک پُورے وقت میں ایک بار بھی وہ چیز پائی جائے مَعذورہی رہے گا ۔مَثَلاً کسی کو سارا وقت قطرہ آتا رہا اور اتنی مُہْلَت ہی نہ ملی کہ وُضو کر کے فرض ادا کر لے تو معذور ہو گیا ۔اب دوسرے اوقات میں اتنا موقع مل جاتا ہے کہ وُضو کر کے نماز پڑھ لے مگر ایک آدھ دفعہ(دَف۔عَہ) قطرہ آجاتا ہے تو اب بھی معذور ہے ۔ ہاںاگر پورا ایک وقت ایسا گزر گیا کہ ایک بار بھی قطرہ نہ آیا تو معذور نہ رہا پھر جب کبھی پہلی حالت آئی(یعنی سارا وقت مسلسل مرض ہوا ) تو پھر معذور ہو گیا۔ 	  (بہارِ شریعت ج۱ص۳۸۵)
 {4} معذور کا وُضو اس چیز سے نہیں جاتا جس کے سبب معذور ہے ہاں اگر دوسری کوئی چیز وُضو توڑنے والی پائی گئی تو وُضو جاتا رہا مَثَلاً جس کورِیح خارِج ہونے کا مرض ہے قطرہ نکلنے سے اُس کا وُضو ٹوٹ جائے گا ۔اور جس کو قطرے کا مرض ہے اس کا رِیح خارِج ہونے سے وُضو جاتا رہے گا ۔   (ایضاً ص ۵۸۶)
{5} معذور نے کسی حَدَث (یعنی وضو توڑنے والے عمل ) کے بعد وُضو کیا اور وضو کرتے وقت وہ چیز نہیں ہے جس کے سبب معذورہے پھر وُضو کے بعد وہ عُذر والی چیز پائی گئی تو وُضو ٹوٹ گیا(یہ حکم اِس صورت میں ہوگا جب معذور نے اپنے عُذر کے بجائے کسی دوسرے سبب کی وجہ سے وُضوکیا ہو اگر اپنے عُذر کی وجہ سے وُضوکیا تو بعد وُضوعذر پائے جانے کی صورت میں وضو نہ ٹوٹے گا) مَثَلاً جس کو قطرہ آتا تھا اس کی رِیح خارِج ہوئی اور اُس نے وُضو کیااور وُضو کرتے وقت قطرہ بند تھا اور وُضو کرنے کے بعد قطرہ آیا تو وُضو ٹوٹ گیا ۔ ہاں اگر وُضو کے درمیان قطرہ جاری تھا تو نہ گیا۔ 		(بہارِ شریعت ج۱ص۳۸۷، دُرِّمُختار، رَدُّالْمُحتار ج۱ص۵۵۷)