Brailvi Books

وُضو کا طریقہ (حنفی)
33 - 54
 کریں کہ وُضو کر کے طہارت کے ساتھ کم از کم فرض رَکعتیں ادا کی جا سکیں۔ پورے وَقت کے دَوران بار بار کوشِش کے باوُجُود اگر اتنی مُہْلَت(مُہ۔لَت) نہیں مل پاتی،وہ اس طرح کہ کبھی تو دَورانِ وُضو ہی عُذر لا حِق ہو جاتا ہے اور کبھی وُضُو مکمَّل کر لینے کے بعد نَماز ادا کرتے ہوئے ، حتّٰی کہ آخِری وَقت آ گیا تو اب انہیں اجازت ہے کہ وُضو کر کے نَماز ادا کریں نَماز ہو جائے گی، اب چاہے دورانِ ادائیگیٔ نَماز، بیماری کے باعِث نَجاست بدن سے خارج ہی کیوں نہ ہو رہی ہو۔فُقَہائے کرام رَحمَہُمُ اللہُ السلامفرماتے ہیں : کسی شخص کی نکسیر پھوٹ گئی یا اس کازخم بہ نکلا تو وہ آخِری وَقت کا انتظار کرے اگر خون مُنقَطَع نہ ہو(بلکہ مسلسل یا وقفے وقفے سے جاری رہے) تو وقت نکلنے سے پہلے وُضو کر کے نَماز ادا کرے۔	
					       (اَلْبَحْرُ الرَّائِق ج۱ص۳۷۳۔۳۷۴)  
  {2}فرض نَماز کا وقت جانے سے معذور کا وضو ٹوٹ جاتا ہے جیسے کسی نے عَصر کے وقت وُضو کیا تھا تو سورج غُروب ہوتے ہی وُضو جاتا رہا اور اگر کسی نے آفتاب نکلنے کے بعد وُضو کیا تو جب تک ظُہر کا وقت ختم نہ ہو وُضو نہ جائے گا کہ ابھی تک کسی فرض نَماز کا وقت نہیں گیا۔ فرض نَماز کا وقت جاتے ہی معذور کا وُضو جاتا رہتا ہے اور یہ حکم اس صورت میں ہوگا جب معذور کاعُذر دَورانِ وُضویا بعدِ وُضوظاہِرہو، اگر ایسا نہ ہو اور دوسرا کوئی حَدَث (یعنی وضو توڑنے والا معاملہ) بھی لاحِق نہ ہو تو فرض نَماز کا وقت جانے سے وُضو نہیں ٹوٹے گا۔
		           (بہارِ شریعت ج۱ص۳۸۶، دُرِّمُختار، رَدُّالْمُحتار ج۱ص۵۵۵)