Brailvi Books

وُضو کا طریقہ (حنفی)
29 - 54
وُقوع(یعنی واقِع ہو نا)ہی اُن سے مُحال(یعنی ناممکن) ہے جیسے جنون (یعنی پاگ پن )یا نَماز میں  قَہقَہہخغشی (یعنی بے ہوشی) بھی انبیاء عَلَيْهِمالصَّلٰوۃُ وَالسَّلامکے جسمِ ظاہِر پرطاری ہو سکتی ہے، دل مبارَک اِس حالت میں  بھی بیدار و خبردار رہتا۔       (فتاوٰی رضویہ مُخَرَّجَہ   ج ۴ ص ۷۴۰)
مساجِد کے وُضو خانے
       مِسواک کرنے سے بعض اَوقات دانتوں  میں  خون آجاتا ہے اور تھوک بھی سرخ ہونے کی وجہ سے ناپاک ہو جاتا ہے مگر افسوس کہ احتیاط نہیں  کی جاتی ۔ مساجِد کے وُضو خانے بھی اکثر کم گہرے ہوتے ہیں  جس کی وجہ سے سُرخ تھوک والی کُلّی کے چھینٹے کپڑوں  یا بدن پر پڑتے ہیں  ،نیز گھر کے حمام کے پختہ فرش پر وُضو کرتے وقت اِس سے بھی زِیادہ چھینٹے پڑتے ہیں  ۔
گھر میں  وُضو خانہ بنوائیے
	آج کل بَیسِن( ہاتھ دھونے کی کُونڈی ) پر کھڑے کھڑے وُضو کرنے کا رَواج ہے جوکہ خِلافِ مُستحَب ہے۔ افسوس ! لوگ آسائشوں  بھری بڑی بڑی کوٹھیاں  تو بناتے ہیں  مگر اِس میں  وُضو خانہ نہیں  بنواتے !سُنَّتوں  کا دَرد رکھنے والے اسلامی بھائیوں  کی خدمتوں  میں  مَدَنی اِلتِجا ہے کہ ہوسکے تو اپنے مَکان میں  کم از کم ایک ٹونٹی کا وُضو خانہ ضَرور بنوائیے ۔اِس میں  یہ احتیاط ضَرور رکھئے کہ ٹونٹی کی دھار براہِ راست فرش پر گرنے کے بجائے ڈھلوان پر گرے ورنہ دانتوں  میں  خون وغیرہ آنے کی صورت میں  بدن یا لباس پر چھینٹے اُڑنے کا مسئلہ رہے گا اگر آپ محتاط وضو خانہ بنوانا چاہتے ہیں  تو اِسی رسالے کے پیچھے دئیے ہوئے نقشے سے