Brailvi Books

وُضو کا طریقہ (حنفی)
27 - 54
 غافِل ہوکر سونے میں  رُکاوٹ نہ ہو تو ایسی نیندسے وُضو ٹوٹ جاتا ہے ۔ اگر ایک شَرط پائی جائے اور دوسری نہ پائی جائے تو وُضو نہیں  ٹوٹے گا۔
      سونے کے وہ دس انداز جن سے وُضو نہیں  ٹوٹتا :{1} اس طرح بیٹھنا کہ دونوں  سرین زمین پر ہوں  اور دونوں  پاؤں  ایک طرف پھیلائے ہوں  ۔(کُرسی ،ریل اور بس کی سیٹ پر بیٹھنے  کا بھی یِہی حکم ہے ) {2} اس طرح بیٹھنا کہ دونوں  سُرِین زمین پر ہوں  اور پِنڈلیوں  کو دونوں  ہاتھوں  کے حلقے میں  لے لے خواہ ہاتھ زمین وغیرہ پر یا سرگُھٹنوں  پر رکھ لے {3} چار زانویعنی پالتی( چوکڑی) مارکر بیٹھے خواہ زمین یا تَخت یا چارپائی وغیرہ پر ہو {4} دو زانو سیدھا بیٹھا ہو{5} گھوڑے یا خَچَّر وغیرہ پر زِین رکھ کر سُوار ہو{6} ننگی پیٹھ پر سُوار ہو مگر جانور چڑھائی پر چڑھ رہا ہو یا راستہ ہَموار ہو{7} تکیہ سے ٹیک لگاکر اس طرح بیٹھا ہو کہ سُرین جمے ہوئے ہوں  اگر چِہ تکیہ ہٹانے سے یہ گر پڑے {8} کھڑا ہو {9}رُکوع کی حالت میں  ہو{10} سنّت کے مطابِق جس طرح مرد سجدہ کرتا ہے اِس طرح سجدہ کرے کہ پیٹ رانوں  اور بازوپہلوؤں  سے جُدا ہوں  ۔مذکورہ صورَتیں  نَماز میں  واقِع ہوں  یا علاوہ نَماز ،وُضو نہیں  ٹوٹے گا اورنَماز بھی فاسِد نہ ہوگی اگرچِہ قصداً سوئے، البتّہ جو رُکن باِلکل سوتے ہوئے ادا کیا اُس کا اِعادہ ( یعنی دوبارہ ادا کرنا)ضَروری ہے اور جاگتے ہوئے شروع کیا پھر نیند آگئی تو جو حصّہ جاگتے اداکیا وہ ادا ہوگیابَقِیّہ ادا کرنا ہوگا۔
	سونے کے وہ دس انداز جن سے وُضو ٹوٹ جاتا ہے :{1} اُکڑوں  یعنی پاؤں