Brailvi Books

وُضو کا طریقہ (حنفی)
24 - 54
ناک صاف کی اس میں  سے جَما ہو ا خون نکلا وُضو نہ ٹوٹا،انسب (یعنی زِیادہ مناسِب )  یہ ہے کہ ُوضو کرے ۔     			    (فتاوٰی رضویہ مُخَرَّجہ ج۱ص۲۸۱)
قَے سے وُضوکب ٹوٹتا ہے ؟
         خ  منہ بھر قے کھانے، پانی یا صَفْرا (یعنی پیلے رنگ کا کڑوا پانی ) کی وُضو توڑ دیتی ہے ۔ جو قَے تَکَلُّف کے بِغیر نہ روکی جا سکے اسے منہ بھر کہتے ہیں۔  منہ بھر قَے پیشاب کی طرح ناپاک ہوتی ہے اسکے چھینٹوں  سے اپنے کپڑے اور بدن کو بچانا ضَروری ہے۔
				        (ماخوذ ازبہارِشریعت ج۱ص۳۰۶،۳۹۰ وغیرہ)
ہنسنے کے اَحکام
	{1} رُکوع و سُجُود والی نَماز میں  بالِغ نے قَہقَہہ لگا دیا یعنی اتنی آواز سے ہنسا کہ آس پاس والوں  نے سنا تو وُضو بھی گیا اورنَماز بھی گئی، اگر اتنی آواز سے ہنسا کہ صِرف خود سنا تونَماز گئی وُضوباقی ہے، مُسکرانے سے نہ نماز جائے گی نہ وُضو۔  مُسکرانے میں  آواز باِلکل نہیں  ہوتی صرف دانت ظاہِر ہوتے ہیں  (مَراقِی الْفَلاح  ص ۶۴ ) {2}بالِغ نے نَمازِ جنازہ میں  قَہقَہہ لگایا تو نَماز ٹوٹ گئی وُضو باقی ہے۔(اَیْضاً ) {3} نَماز کے علاوہ قَہقَہہ لگانے سے وُضو نہیں  جاتا مگر دو بارہ کر لینا مُستحب ہے۔ (مَراقِی الْفَلاح ص۶۰)ہمارے میٹھے میٹھے آقا   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے کبھی بھی قَہقَہہ نہیں  لگایا لہٰذا ہمیں  بھی کوشِش کرنی چاہیے کہ یہ سنّت بھی زِندہ ہو اور ہم زور زور سے نہ ہنسیں  ۔فرمانِ مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
: