دُکھتی آنکھ کے آنسو
خآنکھ کی بیماری کے سبب جو آنسو بہا وہ ناپاک ہے اور وُضو بھی توڑ د یگا ۔ (بہارِ شریعت ج۱ص۳۱۰) افسوس! اکثر لوگ اِس مسئلے (مَس ۔ئَ ۔ لَے) سے ناواقِف ہوتے ہیں اور دُکھتی آنکھ سے بوجہِ مرض بہنے والے آنسو کو اور آنسوؤں کی مانند سمجھ کر آستین یا کرتے کے دامن وغیرہ سے پونچھ کر کپڑے ناپاک کرڈالتے ہیں خ نابِیناکی آنکھ سے جو رَطُوبت بوجہِ مَرَض نکلتی ہے وہ ناپاک ہے اور اس سے وُضو بھی ٹوٹ جاتا ہے۔ ( ماخوذ از بہارِ شریعت ج ۱ ص ۳۰۶ )
پاک اور ناپاک رَطوبت
خ جورَطوبَت انسانی بدن سے نکلے اور وُضو نہ توڑے وہ ناپاک نہیں۔ مَثَلاًخون یا پیپ بہ کر نہ نکلے یا تھوڑی قے کہ منہ بھر نہ ہو پاک ہے ۔ (بہارِ شریعت ج۱ص۳۰۹)
چھالا اور پُھڑیا
خ چھالا نوچ ڈالا اگر اس کا پانی بہ گیا تو وُضو ٹوٹ گیا ورنہ نہیں ۔ (اَیْضاً ص ۳۰۵) خپھڑیا باِلکل اچّھی ہو گئی اس کی مُردہ کھال باقی ہے جس میں اوپر منہ اور اندر خَلا ہے اگر اس میں پانی بھر گیا اور دبا کر نکالا تو نہ وُضو جائے نہ وہ پانی ناپاک ۔ ہاں اگر اُس کے اندر کچھ تَری خون وغیرہ کی باقی ہے تو وُضو بھی جاتا رہے گا اور وہ پانی بھی ناپاک ہے۔(فتاوٰی رضویہ مُخَرَّجہ ج۱ص۳۵۵۔۳۵۶) خ خارِش یا پھُڑیوں میں اگر بہنے والی رَطُوبت نہ ہو صِرف چِپک ہو اور کپڑا اس سے بار بار چھو کر چاہے کتنا ہی سَن جائے پاک ہے۔(بہارِشریعت ج ۱ ص ۳۱۰ ) خ