اُبھر یا چمک جاتا ہے یاخِلال کیا یا مِسواک کی یا اُنگلی سے دانت مانجھے یا دانت سے کوئی چیزمَثَلاً سیب وغیرہ کاٹا اس پر خون کا اثر ظاہِر ہو ایا ناک میں اُنگلی ڈالی اِس پر خون کی سُرخی آگئی مگر وہ خون بہنے کے قابِل نہ تھا وُضو نہیں ٹوٹا ۔ (اَیْضاً)خ اگر بَہا مگر بہ کر ایسی جگہ نہیں آیا جس کا غسل یا وُضو میں دھونافَرض ہو مَثَلاً آنکھ میں دانہ تھا اور ٹوٹ کر اندر ہی پھیل گیا باہَرنہیں نکلا یا پیپ یاخون کان کے سُوراخوں کے اندر ہی رہا باہَر نہ نکلا تو ان صورَتوں میں وُضو نہ ٹوٹا (اَیْضاً ص۲۷) خ زخم بے شک بڑاہے رَطُوبت چمک رہی ہے مگر جب تک بہے گی نہیں وُضو نہیں ٹوٹے گا۔(اَیضًا)خ زخم کا خون بار بار پونچھتے رہے کہ بہنے کی نَوبت نہ آئی تو غور کرلیجئے کہ اگر اتنا خون پونچھ لیا ہے کہ اگر نہ پونچھتے تو بہ جاتا تو وُضو ٹوٹ گیا ،نہیں تو نہیں۔ (اَیْضًا)
سردی سے اَعضاء پھٹ جائیں تو......
سردی وغیرہ سے اَعضا ء پھٹ گئے دھو سکے دھوئے ،ٹھنڈا پانی نقصان کرے تو گَرم پانی اگر کر سکتا ہو کرنا واجِب ، اگر گرم سے بھی نقصان ہو تو مَسح کرے، اگرمَسح بھی نقصان دے تو اس پر جو پٹّی بندھی یا دوا کا ضِماد (یعنی لیپ)ہے اُس پر پانی بہائے ، یہ بھی ضَرَر(یعنی نقصان) دے تو اس پٹّی یاضِما د(یعنی لیپ۔PASTE) پورے پرمَسح کرے اس سے( بھی) نقصان ہو تو چھوڑ دے،مُعاف ہے۔ (فتاوٰی رضویہ مُخَرَّجَہ ج ۴ ص۶۲۰)