کہ جن ظاہِری اَعضاء پر لوگوں کی نظر پڑتی ہے و ہ تو بظاہِر طاہِر ( یعنی پاک) ہوچکے مگر دل کو پاک کئے بِغیر بارگاہِ الٰہی عَزَّ وَجَلَّ میں مُناجات کرنا حیا کے خِلاف ہے کیوں کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ دلوں کوبھی دیکھنے والاہے ۔مزید فرماتے ہیں :ظاہِری وُضو کرلینے والے کو یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ دل کی طہارت ( یعنی صفائی) توبہ کرنے اور گناہوں کو چھوڑنے اور عمدہ اَخلاق اپنانے سے ہوتی ہے ۔جو شخص دل کو گناہوں کی آلودَگیوں سے پاک نہیں کرتا فَقَط ظاہِری طہارت (یعنی صفائی ) اور زَیب و زینت پر اِکتِفاء کرتا ہے اُس کی مثال اُس شخص کی سی ہے جو بادشاہ کو مَدعو کرتا ہے اور اپنے گھر کو باہَر سے خوب چمکاتا ہے اور رنگ و روغن کرتا ہے مگر مکان کے اندر ونی حصّے کی صفائی پر کوئی توجُّہ نہیں دیتا ۔اب ایسی صورت میں جب بادشاہ اُس کے مکان کے اندر آکر گندگیاں دیکھے گا تو وہ ناراض ہوگا یا راضی یہ ہر ذی شُعُور خود سمجھ سکتا ہے ۔
(اِحْیَائُ الْعُلوم ج۱ص۱۸۵مُلَخَّصاً)
"صبر کر" کے پانچ حروف کی نسبت سے
زخم وغیرہ سے خون نکلنے کے 5 احکام
خ خون،پِیپ یا زَرد پانی کہیں سے نکل کر بہا اور ا سکے بہنے میں ایسی جگہ پہنچنے کی صَلاحِیَّت تھی جس جگہ کا وُضو یا غسل میں دھونا فَرض ہے تو وُضو جاتا رہا۔ (بہارِ شریعت ج ۱ ص ۳۰۴ ) خ خون اگر چمکا یا اُبھرا اور بہا نہیں جیسے سُوئی کی نوک یا چاقو کاکَنارہ لگ جاتا ہے اور خون