Brailvi Books

وُضو کا طریقہ (حنفی)
19 - 54
 ذرّوں  کو بَتَدریج چھڑا چھڑا کر لاتا ہے، اس کی بھی کوئی تَحدید( حد بندی )نہیں  ہوسکتی اور یہ کامل تصفیہ(تص۔فِیَہ یعنی مکمّل صفائی) بھی بَہُت مُؤکَّد(یعنی اِس کی سخت تاکید) ہے متعدَّد احادیث میں  ارشاد ہوا ہے کہ:’’ جب بندہ نَماز کو کھڑا ہوتا ہے فِرِشتہ اس کے منہ پر اپنا منہ رکھتا ہے یہ جو پڑھتا ہے اِس کے منہ سے نکل کر فِرِشتے کے منہ میں  جاتا ہے اُس وقت اگر کھانے کی کوئی شے اُس کے دانتوں  میں  ہوتی ہے ملائکہ کو اُس سے ایسی سخت ایذ ا ہوتی ہے کہ اور شے سے نہیں  ہوتی ۔‘‘
	حُضُورِ اکرم ،نورِ مجسّم ،شاہِ بنی آدم ،رسولِ مُحتَشَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: جب تم میں  سے کوئی رات کو نَماز کیلئے کھڑا ہو تو چاہئے کہ مِسواک کرلے کیونکہ جب وہ اپنی نَماز  میں  قرا ء ت(قِرَا۔ئَ ت) کرتا ہے تو فِرِشتہ اپنا منہ اِس کے منہ پر رکھ لیتا ہے اور جو چیز اِس کے منہ سے  نکلتی ہے وہ فرشتے کے منہ میں  داخِل ہوجاتی ہے ۔   ۱   ؎  اور ’’طَبَرانینے کبِیر ‘‘میں  حضرت ِ سیِّدُنا ابو ایُّوب انصاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت کی ہے کہ دونوں  فِرِشتوں  پر اس سے زِیادہ کوئی چیزگِراں  نہیں  کہ وہ اپنے ساتھی کو نَماز پڑھتا دیکھیں  اور اس کے دانتوں  میں  کھانے کے ریزے پھنسے ہوں۔         (اَلْمُعْجَمُ الْکبِیرج۴ص۱۷۷حدیث۴۰۶۱، فتاوٰی رضویہ مُخَرَّجہ ج۱ ص۶۲۴۔ ۶۲۵)
تصوُّف کا عظیم مَدَنی نسخہ
       حُجَّۃُ الاسلام حضرت سیِّدُنا امام ابوحامد محمدبن محمدبن محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الوالی فرماتے ہیں  :وُضو سے فراغت کے بعد جب آپ نَماز کی طرف متوجّہ ہوں  اُس وقت یہ تصوُّر کیجئے  


مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
    ۱   شُعَبُ الْاِیمان ج۲ص۳۸۱رقم۲۱۱۷