(پانی)سے وُضو کرنا منع ہے کہ مُثلہ یعنی صورت بگاڑنا ہے اور یہ شرعاً حرام ہے(فتاوٰی رضویہ مُخَرَّجَہ ج ۴ ص۶۵۰) (معلوم ہوا منہ پر اس طرح مٹّی ملنا کہ صورت بگڑ جائے یا منہ کالا کرنا جیسا کہ بعض اوقات چور کا کوئلے وغیرہ سے منہ کالا کر دیتے ہیں یہ حرام ہے قصداً کافر کا بھی مُثلہ کرنا یعنی چہرہ بگاڑنا جائز نہیں )خجس پانی میں کوئی بدبُو دار چیز مل جائے اس سے وُضو مکروہ ہے خصوصاً اگر اس کی بدبُو نَماز میں باقی رہے کہ(اِس سے نماز) مکروہِ تحریمی ہو گی۔ (اَیضاً ص۶۵۰ )
پان کھانے والے متوجّہ ہوں
میرے آقا اعلٰی حضرت،اِمامِ اَہلسنّت، ولیِ نِعمت،عظیمُ البَرَکت، عظیمُ المَرتَبت،پروانۂِ شمعِ رِسالت،مُجَدِّدِ دین ومِلَّت، حامیِ سنّت ، ماحِیِ بِدعت، عالِمِ شَرِیْعَت ، پیرِ طریقت،باعثِ خَیْر وبَرَکت، حضرتِ علّامہ مولانا الحاج الحافِظ القاری شاہ امام اَحمد رَضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرحمٰنفرماتے ہیں : پانوں کے کثرت سے عادی خُصُوصاً جبکہ دانتوں میں فَضا(گیپ) ہو تجرِبے سے جانتے ہیں چھالیہ کے باریک ریزے اور پان کے بَہُت چھو ٹے چھوٹے ٹکڑے اِس طرح منہ کے اَطراف و اَکناف میں جاگیر ہوتے ہیں ( یعنی منہ کے کونوں اور دانتوں کے کھانچوں میں گھس جاتے ہیں ) کہ تین بلکہ کبھی دس بارہ کُلّیاں بھی اُن کے تَصفِیۂ تام( یعنی مکمّل صفائی) کو کافی نہیں ہوتیں ،نہ خِلال اُنہیں نکال سکتا ہے نہ مسواک ،سوا کُلّیوں کے کہ پانی مَنافِذ( یعنی سوراخوں ) میں داخِل ہوتا اور جنبشیں دینے( یعنی ہِلانے) سے جمے ہوئے باریک