Brailvi Books

وُضو کا طریقہ (حنفی)
17 - 54
سونے چاندی کے سوا کسی اور دھات کے برتن میں  دھوپ میں  گرم ہو گیا، تو جب تک گرم ہے اس سے وُضو اور غُسل نہ چاہیے، نہ اس کو پینا چاہیے بلکہ بدن کو کسی طرح پہنچنا نہ چاہیے، یہاں  تک کہ اگر اس سے کپڑ ا بھیگ جائے تو جب تک ٹھنڈا نہ ہو لے اس کے پہننے سے بچیں  کہ اس پانی کے اِستِعمال میں  اندیشہ ٔبرص(یعنی بدن پر سفید داغ کا اندیشہ) ہے ، پھر بھی اگر وُضو یا غُسل کر لیا تو ہو جائے گا۔‘‘ 			      (بہارِشریعت ج۱ص۳۰۱،۳۳۴) 
مُسْتَعْمل پانی کا اَہَمّ مسئلہ
	اگر بے وُضو شخص کا ہاتھ یا اُنگلی کا پَورایا ناخُن یا بدن کا کوئی ٹکڑا جو وُضو میں  دھویا جاتاہو جان بوجھ کر یا بھول کردَہ در دَہ (10×10)سے کم پانی (مَثَلاً پانی سے بھری ہوئی بالٹی یا لوٹے وغیرہ ) میں  پڑجائے تو پانی مُسْتَعمَل(یعنی استعمال شُدہ) ہو گیا اوراب وُضو اور غسل کے لائق نہ رہا ۔اِسی طرح جس پرغُسل فرض ہو اس کے جسم کا کوئی بے دُھلا ہو ا حصّہ پانی سے چُھو جائے تو وہ پانی وُضو اور غُسل کے کام کانہ رہا ۔ہاں  اگر دُھلا ہاتھ یا دُھلے ہوئے بدن کا کوئی حصّہ پڑجائے تو حَرَج نہیں۔(بہارِ شریعت ج۱ص۳۳۳)( مُسْتَعمَل پانی اور وُضو و غسل کے تفصیلی اَحکام سیکھنے کیلئے بہارِشریعت حصّہ 2کا مطالَعَہ فرما یئے )
مٹّی ملے پانی سے وُضو ہو گا یا نہیں  
            خپانی میں  ریت کیچڑ مل جائے تو جب تک رقیق(یعنی پانی پَتلا) رہے اس سے وُضو جائز ہے۔ اَقُول (اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں  : ’’میں  کہتا ہوں  ‘‘)مگر بِلا ضَرورت کیچڑ ملے ہوئے