Brailvi Books

وُضو کا طریقہ (حنفی)
16 - 54
 خبے ضرورت دنیا کی بات کرنا خ زِیادَہ پانی خرچ کرنا (صدرُ الشَّریعہمفتی محمد امجد علی اعظمی  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِیبہارِ شریعت مُخَرَّجَہ جلد اوّل صَفحَہ 302 تا303پر فرماتے ہیں  : ناک میں  پانی ڈالتے وقت آدھا چُلّو کافی ہے تواب پورا چُلّو لینا اِسراف ہے )خاتنا کم پانی خرچ کرنا کہ سنّت ادا نہ ہو ( ٹونٹی نہ اتنی زِیادہ کھولیں  کہ پانی حاجت سے زیادہ گرے نہ اتنی کم کھولیں  کہ سنّت بھی ادا نہ ہو بلکہ مُتَوَسِّط ہو)  خ منہ پر پانی مارنا خ منہ پر پانی ڈالتے وَقت پھونکنا خ ایک ہاتھ سے منہ دھونا کہ رِفاض وہُنود کا شِعار ہے خگلے کا مَسح کرنا خ اُلٹے ہاتھ سے کُلّی کرنا یا ناک میں  پانی چڑھانا خ سیدھے ہاتھ سے ناک صاف کرنا ختین جدید پانیوں  سے تین بار سر کامَسح کرنا خ دھوپ کے گرم پانی سے وُضو کرنا خہونٹ یا آنکھیں  زور سے بند کرنا اور اگر کچھ سُو کھا رَ ہ گیاتو وُضو ہی نہ ہو گا۔ وُضو کی ہر سنّت کا ترک مکروہ ہے اِسی طرح ہر مکروہ کا ترک سنّت ۔				 (بہارِ شریعت ج۱ص۳۰۰۔۳۰۱)
دھوپ کے گرم پانی کی وَضاحت
         صدرُ الشَّریعہ،بدرُ الطَّریقہحضرتِ  علّامہ مولیٰنامفتی محمد امجد علی اعظمی    عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہبہارِ شریعت مُخَرَّجَہجلد اوّلصَفْحَہ301 کے حاشیہ پر لکھتے ہیں  : ’’جو پانی دھوپ سے گرم ہوگیا اس سے وُضو کرنا مُطلَقاً مکروہ نہیں  بلکہ اس میں  چند قُیُود ہیں  ، جن کا ذکر پانی کے باب میں  آئے گا اور اس سے وُضو کی کراہت تنزیہی ہے تحریمی نہیں۔‘‘پانی کے باب میں  صَفْحَہ334 پر لکھتے ہیں  :’’جو پانی گرم ملک میں  گرم موسم میں