Brailvi Books

وُضو کا طریقہ (حنفی)
15 - 54
 جانا ہوکہ فرشِ مسجد پر وُضو کے پانی کے قطرے گرانا مکروہ ِتحریمی ہے خ ہر عُضْوْ کے دھوتے وقت اورمَسْح کرتے وَقت نیّتِ وُضو کا حاضِر رَہنا خ ابتِداء میں  بسمِ اللہ کے ساتھ ساتھ دُرُود شریف اورکَلِمۂ شہادت پڑھ لیناخ اَعْضائے وُضو بِلا ضَرورت نہ پونچھئے اگر پونچھنا ہو تب بھی بِلا ضَرورت باِلکل خشک نہ کیجئے کچھ تَری باقی رکھئے کہ بروزِ قِیامت نیکیوں  کے پلڑے میں  رکھی جائے گی خ وُضو کے بعد ہاتھ نہ جَھٹکیں  کہ شیطان کا پنکھا ہے خبعدِ وُضو مِیانی (یعنی پاجامے کا وہ حصّہ جو پیشاب گاہ کے قریب ہوتا ہے ) پر پانی چھِڑَکنا۔ (پانی چھڑکتے وقت مِیا نی کو کُرتے کے دامن میں  چھپائے رکھنا مناسِب ہے نیز وُضو کرتے وَقت بھی بلکہ ہر وقت پردے میں  پردہ کرتے ہوئے میانی کو کُرتے کے دامن یا چادر وغیرہ کے ذَرِیعے چھپائے رکھنا حیا کے قریب ہے ) خ اگر مکروہ وقت نہ ہو تو دو رَکعَت نَفل ادا کرنا جسے تَحِیَّۃُ الْوُضُوکہتے ہیں۔
					      (بہارِ شریعت ج۱ص۲۹۳۔ ۳۰۰ )
کامل وضونصیب ہو کے سولہ حروف 
کی نسبت سے وضو کے 16 مکروہات
	خوُضوکیلئے ناپاک جگہ پر بیٹھنا خ ناپاک جگہ وُضو کا پانی گرانا خ اَعْضائے وُضو سے لوٹے وغیرہ میں  قَطرے ٹپکانا (منہ دھوتے وقت بھرے ہوئے چُلّو میں  عُمُوماًچِہرے سے پانی کے قطرے گرتے ہیں  اس کا خیال رکھئے)خقِبلے کی طرف تھوک یا بلغم ڈالنا یاکُلّی کرنا