Brailvi Books

تذکرۂ جانشینِ امیرِاہلِ سُنّت ( قسط اوّل)
27 - 30
  اسے پیچھے لے جانے لگے  ۔ کافی دُور ایک نوجوان کے پاس لے جا کر آپ نے گاڑی روک دی ، وہ پیدل کہیں جا رہا تھا ۔ آپ نے اس سے پوچھا : کہاں جانا ہے ؟ اس نے جواب دیا کہ حَب چوکی جانا ہے ۔  جانشینِ امیرِ اہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے اسے گاڑی میں بیٹھنے کی دعوت دی  جو اس نے قبول کر لی ۔ گاڑی ایک بار پھر اپنی منزل کی طرف روانہ ہو گئی ۔  اس نوجوان سے جب نام پوچھا گیا تومعلوم ہوا کہ وہ غیرمسلم ہے ۔  اُن مدنی اسلامی بھائی نے اُس سے کہا : تم مذہبِ اسلام کے بارے میں  کیا کہتے ہو ؟  اس نے  جواب دیا کہ اسلام بہت  اچھا مذہب ہے ۔ مدنی اسلامی بھائی نے کہا : جب اسلام اچھا مذہب ہے تو پھر تم مسلمان کیوں نہیں ہوجاتے ؟ اس پر وہ غیر مسلم بولا : مسلمان آپس میں لڑتے جھگڑتے بہت ہیں ، اس لئے میں مسلمان نہیں ہونا چاہتا ۔ اس پر وہ مدنی  اسلامی بھائی  بولے : یہ تو چند مسلمانوں کا اپنا فعل ہے ، اسلام کی یہ تعلیمات نہیں ہیں ، اسلام تو  بھائی چارے  کا درس دیتا  ہے ۔ اس طرح کی انفرادی کوشش جاری رہی مگر وہ نوجوان اپنا باطل مذہب چھوڑنے پر آمادہ نہ ہوا ۔ جب جانشینِ امیرِ اہلِ سنّت نے اس پر انفرادی کوشش کی تو فرمایا : اگر گھر میں بجلی ( Electric) کی فٹنگ  ( Fitting) کر دی جائے  مگر بجلی کا کنکشن  نہ کیا جائے تو وہاں لگا ہوا بجلی کا سامان  بلب اور پنکھے وغیرہ کسی کام نہ آئیں گے ۔ اِسی طرح اگر  کوئی ایمان لائے بغیر ساری زندگی اچھے کام کرتا رہے تو اُسے بھی وہ اچھے کام  کوئی فائدہ نہ دیں گے ۔  جانشینِ امیرِ اہل سنَّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہکی انفرادی کوشش سے وہ اتنا متأثر ہوا کہ نہ صرف کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوگیا بلکہ سلسلہ عالیہ قادریہ عطاریہ میں بھی داخل ہوگیا ۔  
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب	صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد