Brailvi Books

تذکرۂ جانشینِ امیرِاہلِ سُنّت ( قسط اوّل)
25 - 30
 بارے میں سُوال کردیا تو مجھے جواب نہیں آئے گا میں تو جب قابِل ہوجاؤں گا اُس وَقت داڑھی رکھوں گا ۔ ‘‘امیرِ اہلِ سنَّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہفرماتے ہیں : نفس کی ( اِن سب) حیلہ بازِیوں میں مت آ !  اور مان جا ، خواہ ماں روکے ، باپ مَنع کرے ، مُعاشَرہ آڑے آئے ، شادی میں رُکاوٹ کھڑی ہو ۔ کچھ ہی ہوجائے اللہ پاک اور اس کے پیارے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا حکم ماننا ماننااور ماننا ہی ہے ، تسلّی رکھ !  اگر جوڑا لوحِ محفوظ پر لکھا ہوا ہے تو تیری شادی ہو کر رہے گی اور اگر نہیں لکھا تو دُنیا کی کوئی طاقت تیری شادی نہیں کروا سکتی ۔  زندَگی کا کیا بھروسا؟ ( نیکی کی دعوت ، ص : ۵۵۵ملتقطاً) 
سرکار کا عاشق بھی کیا داڑھی منڈاتا ہے
کیوں عشق کا چہرے سے اظہار نہیں ہوتا
                                              ( وسائل بخشش مرمم ، ص۱۶۳)
  ( 4) بیان سن کر تائب ہوگئے 
سردار آباد ( فیصل آباد) کے علاقے غلام محمد آباد کے ایک نوجوان دعوتِ اسلامی کے مشکبار مدنی ماحول  سے منسلک ہونے سے قبل بیوٹی پارلر میں کام کرتے  تھے اور غفلتوں بھری زندگی بسر کر رہے تھے ۔  فیشن پرستی میں مبتلا ہونے کے ساتھ بُرے دوستوں کی صحبت  کا شکار تھے ، لڑائی جھگڑے کرنا ان کا معمول تھا ۔  دِلی طور پر یہ اس زندگی سے بیزار تھے اور حقیقی سکون پانے کے لئے بے قرار رہتے تھے ۔  ایک دن بیوٹی پارلر میں  کام کر رہے تھے کہ ان کی نظراپنے ایک سابقہ دوست پر پڑی جو انہی کی طرح بہت ماڈرن نوجوان تھے مگر اِس وقت اُن کے چہرے پر سُنَّت کے مطابق داڑھی شریف ، سرپر سجے