سعادت سے محروم تھے ۔ انہیں داڑھی شریف رکھتا دیکھ کر ایک بڑے بھائی نے کہا : ابھی تمہاری عمر ہی کیا ہے ، داڑھی مت رکھو ۔ مگریہ ڈٹے رہے بلکہ انہوں نے اپنے بھائیوں پر بھی انفرادی کوشش شروع کردی ۔ تین بھائیوں نے کچھ ہی عرصے میں سنت کے مطابق داڑھی شریف سجا لی جبکہ ایک بھائی کئی سالوں کی انفرادی کوشش کے بعد داڑھی شریف کی سنت چہرے پر سجا چکے ہیں اور تمام بھائی مدنی ماحول سے وابستہ ہو کر اجتماعات میں شرکت کے ساتھ ساتھ مدنی قافلوں کے مسافر بھی بنتے ہیں ۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! دیکھا آپ نے ! بیان کی برکت سے داڑھی شریف رکھنے کے جذبے سے سرشار ہونے والے نوجوان نے نفس وشیطان کو کس طرح ناکام ونامراد کیا اور داڑھی شریف رکھنے میں حائل ہونے والوں کو بھی مدنی رنگ میں رنگ دیا اور انہیں بھی داڑھی شریف رکھنے کی عظیم سعادت حاصل ہوگئی ۔ یاد رہے ! داڑھی منڈوانا یا ایک مٹھی سے کم کرنا دونوں ہی حرام اور جہنم میں لے جانے والے کام ہیں ۔ داڑھی شریف کے بارے میں یہ سوچنا کہ ” میں اس کے قابل نہیں ہوں “ “ ابھی میری عمر ہی کتنی ہے “ “ شادی کے بعد رکھ لوں گا “ وغیرہ وغیرہ وسوسوں کی کاٹ کرتے ہوئے امیرِ اہل سنَّتدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہفرماتے ہیں : ( اے اسلامی بھائی ! ) انگریزی فیشن اورفرنگی تہذیب کو تین طَلَاقیں دے ڈال اور اپنا چہرہ میٹھے میٹھے آقا ، مکّی مَدَنی مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی پاکیزہ سنَّت سے آراستہ کرلے اور ایک مُٹّھی داڑھی سجالے ۔ ہرگز ہرگز شیطان کے اِس فَریب میں نہ آ اور ان وَساوِس کی طرف توجُّہ مت لا ، کہ’’ابھی تو میں اِس قابل نہیں ہوا ، میری تو عمر ہی کیا ہے ! میرا علم بھی اِتنا کہاں ہے ! اگر کسی نے دین کے