Brailvi Books

تذکرۂ جانشینِ امیرِاہلِ سُنّت ( قسط اوّل)
23 - 30
 ( فیصل آباد) میڈیکل کے شعبے سے وابستہ تھے ، ایک مبلغِ دعوتِ اسلامی روزانہ ان پر  انفرادی کوشش کرتے ، انہیں سلسلۂ عالیہ قادریہ عطاریہ میں بیعت ہونے  کی ترغیب دلاتے  مگر یہ  انہیں ٹال دیتے اور کہتے کہ بیعت کے بعد تو داڑھی رکھنی پڑے گی جبکہ میں تو شادی کے بعد ہی داڑھی کا سوچوں گا ۔  2005ءمیں پاکستان کے  دارالحکومت اسلام آباد میں صوبائی سطح پر اجتماع کا انعقاد ہوا ، جس میں جانشینِ امیرِ اہلِ سنّت حضرت مولانا عبید رضا عطاری مدنی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا بیان تھا ۔ وہ اسلامی بھائی انہیں اجتماع میں شریک ہونے اور بیان سننے کی دعوت دینے آئے مگرانہوں نے صاف منع کردیا ۔  وہ اسلامی بھائی مسلسل انفرادی کوشش کرتے رہے ۔  بالآخر اِنہوں نے اپنے نہ جانے کا سبب یہ بیان کیا کہ  اگر اجتماع میں گیا تو مجھے بہت سے کام چھوڑنے پڑیں گے جبکہ فی الحال میں ایسا کچھ نہیں کر سکتا ۔  اس اسلامی بھائی نے حکمتِ عملی سے کام لیتے ہوئے انہیں کہا : آپ صِرف بیان سننے کی نیت سے ہمارے ساتھ چلیں ، بیان سن کر واپس آ جائیے گا ۔  انہوں نے یہ بات منظور کر لی اور اجتماع میں شریک ہوگئے ۔  جانشینِ امیرِ اہلِ سنّت کا سنتوں بھرا بیان ہوا ، عوام کے جمِ غفیر کی وجہ سے انہیں اجتماع کے بعد صرف تھوڑی ہی دیر کے لئے جانشینِ امیر اہل سنَّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی زیارت ہوئی ۔  تھوڑی دیر کی زیارت اور بیان سننے کی برکت سے ان کے دل میں مدنی انقلاب پیدا ہوگیا ۔  انہوں نے اسی وقت سنّت کے مطابق ایک مٹھی داڑھی شریف رکھنے کی نیت کر لی ، پھر اس کے بعد کبھی داڑھی شریف نہیں منڈوائی ۔  اَلْحَمْدُ لِلّٰہ  عَزَّ  وَجَلَّ تادمِ تحریر داڑھی کی سنّت سے مُزَیَّن ہیں ۔ یہ اپنے پانچ بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے ۔ ان کے تمام بھائی سنت کے مطابق ایک مٹھی داڑھی شریف کی