کی تمام عمر اسلام کے خلاف اٹھنے والے فتنوں کی سرکوبی میں بسر ہوئی{۴} دونوں صاحبان نے کبھی بھی باطل کے سامنے سر نہیں جھکا یا {۵} دونوں اولیائے کرام کا وصال صفر المظفر میں ہوا۔
مکتوباتِ امامِ ربّانی اور اعلٰی حضرت
اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اپنے ایک مکتوب میں ’’مکتوباتِ امام ربانی‘‘ سے ایک فرمان نقل کر کے حضرت مجد د الف ثانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی کے فرمان کو ارشادِ ہدایت قرار دیا ہے چنانچہ امامِ اہلسنّت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اپنے ایک اہل ِ محبت کو گمراہ لوگوں کی صحبت کے نقصانات سمجھاتے ہوئے لکھتے ہیں : آپ جیسے صوفی صافی منش کو حضرت سیِّدُنا شیخ مجدد الف ثانی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا ایک ارشاد یاد دلاتا ہوں اور عین ہدایت کے امتثال (حکم بجالانے) کی امید رکھتا ہوں ۔ پھر حضرت مجد د الف ثانی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے مکتوب کا کلام ذِکر فرما کر ارشاد فرمایا ’’مولانا انصاف ! آپ یا زید یااور اراکین مصلحت دین و مذہب زیادہ جانتے ہیں یا حضرت شیخ مجدد ؟مجھے ہرگز آپ کی خوبیوں سے امید نہیں کہ اس اِرشادِ ہدایت بنیاد کو مَعَاذَ اللہ عَزَّوَجَلَّ لغو و باطل جانئے، اور جب وہ حق ہے اور بے شک حق ہے تو کیوں نہ مانئے۔ ‘‘ (مکتوباتِ امام احمد رضا ص۹۰ ملخّصًا)
آثارِ وصال
حضرت سیِّدُنا مجدد الف ثانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی 1033ھ میں سرہند شریف آ کر خلوت نشین (یعنی سب سے الگ تھلگ) ہو گئے۔ اپنے خالق و مالک عَزَّوَجَلَّسے ملاقات کی