کسی گانے والی کے پاس بیٹھ کر گانا سنتا ہے قیامت کے دن اللہ عَزَّ وَجَلَّاس کے کانوں میں پگھلا ہواسیسہ انڈیلے گا۔ (جَمْعُ الْجَوامِع لِلسُّیُوطی ج ۷ ص ۲۵۴ حدیث ۲۲۸۴۳)
مَناقِبِ غوثِ صمدانی بزبانِ مجدد الفِ ثانی
دعوتِ اسلامی کے اِشاعَتی اِدارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ561 صَفحات پر مشتمل کتاب ، ’’ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت‘‘ صَفْحَہ 422پر ہے: حضرتِ مجدد اَلف ثانیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فرماتے ہیں : جو کچھ فُیُو ض و برکات کا مجمع ہے وہ سب سرکارِ غوثیت سے ملے ہیں ۔ نُوْرُ الْقَمَرِ مُسْتَفَادٌ مِنْ نُورِ الشَّمْس یعنی چاند کی روشنی سورج کے نور سے مستفاد ہے ۔ (مکتوبات ِ امام ربّانی، دفترسوم ، حصہ نہم ، مکتوب۱۲۳ ج۲ص۱۴۵ ملخّصًا)
مجدِّدِ اَلفِ ثانی اور اعلٰی حضرت
(پانچ ملتی جلتی صفات)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اعلیٰ حضرت ، امامِ اہلِسنّت ، مجدِّدِ دین وملّت ، مولانا شاہ امام احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن کی مبارک حیات کے کئی گوشے ایسے ہیں جن میں حضرت سیِّدُنا مجدد الف ثانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی کی سیر ت کی جھلک نظر آتی ہے بلکہ تعلیم و تربیت، دینی خدمات حتّٰی کہ وصال کے مہینے میں بھی یکسانیت ہے۔ اس کی تفصیل کچھ یوں ہے : {۱} حضرت سیِّدُنا مجدّد الف ثانی اور امام اہلسنّت رحمۃ اللہ تعالٰی علیہما دونوں کا نام احمد ہے {۲} دونوں بزرگوں نے اپنے اپنے والد سے علمِ دین حاصل کیا {۳} دونوں حضرات