Brailvi Books

تذکرہ مُجَدِّدِ اَلْفِ ثانی
37 - 42
 کسی گانے والی کے پاس بیٹھ کر گانا سنتا ہے قیامت کے دن اللہ  عَزَّ وَجَلَّاس کے کانوں میں پگھلا ہواسیسہ انڈیلے گا۔   (جَمْعُ الْجَوامِع لِلسُّیُوطی ج ۷ ص ۲۵۴ حدیث ۲۲۸۴۳)  
مَناقِبِ غوثِ صمدانی بزبانِ مجدد الفِ ثانی
	 دعوتِ اسلامی کے اِشاعَتی اِدارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ561 صَفحات پر مشتمل کتاب ،   ’’ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت‘‘  صَفْحَہ 422پر ہے:  حضرتِ مجدد اَلف ثانیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فرماتے ہیں :  جو کچھ فُیُو ض و برکات کا مجمع ہے وہ سب سرکارِ غوثیت سے ملے ہیں ۔   نُوْرُ الْقَمَرِ مُسْتَفَادٌ مِنْ نُورِ الشَّمْس یعنی چاند کی روشنی سورج کے نور سے مستفاد ہے ۔    (مکتوبات ِ امام ربّانی،  دفترسوم ،  حصہ نہم ،  مکتوب۱۲۳ ج۲ص۱۴۵ ملخّصًا)  
مجدِّدِ اَلفِ ثانی اور اعلٰی حضرت
 (پانچ ملتی جلتی صفات)  
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!   اعلیٰ حضرت ،  امامِ اہلِسنّت ،  مجدِّدِ دین وملّت ،  مولانا شاہ امام احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن کی مبارک حیات  کے کئی گوشے ایسے ہیں جن میں حضرت سیِّدُنا مجدد الف ثانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی کی سیر ت کی جھلک نظر آتی ہے بلکہ تعلیم و تربیت،   دینی خدمات حتّٰی کہ وصال کے مہینے میں بھی یکسانیت ہے۔   اس کی تفصیل کچھ یوں ہے :    {۱}  حضرت سیِّدُنا  مجدّد الف ثانی اور امام اہلسنّت رحمۃ اللہ تعالٰی علیہما دونوں کا نام احمد ہے  {۲}  دونوں بزرگوں نے اپنے اپنے والد سے علمِ دین حاصل کیا  {۳}  دونوں حضرات