لگن نے مخلوق سے بے نیاز کردیا۔ اس خلوتِ خاص (یعنی خصوصی تنہائی) میں صرف چندافراد کوحجرے (یعنی کمرے) میں آنے کی اجازت تھی جن میں صاحبزادگان خواجہ محمد سعید اور خواجہ محمد معصوم رحمۃ اللہ تعالٰی علیہما، خلفائے کرام میں سے حضرت خواجہ محمد ہاشم کِشمی، حضرت خواجہ بدر الدین رحمۃ اللہ تعالٰی علیہما اور دو ایک خادم۔ حضرت خواجہ محمد ہاشم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ وصال (یعنی انتقال) سے قبل ہی دکن تشریف لے گئے تھے۔ حضرت خواجہ بدر الدین رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ آخر وقت تک حاضر رہے۔ جب حضرت خواجہ محمد ہاشم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ رخصت ہونے لگے تو حضرت سیِّدُنا مجدد الف ثانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی نے فرمایا: ’’دُعا کرتا ہوں کہ آخرت میں ہم ایک جگہ جمع ہوں ۔ ‘‘ ( زُبْدَۃُ الْمَقامات ص۲۸۲تا۲۸۵مُلَخَّصًا)
وصال مبارک
28صفرُ المُظَفَّر 1034 ھ / 1624 ء کوجانِ عزیز اپنے خالقِ حقیقی کے سپرد کردی ۔ اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَؕ (۱۵۶) ۔ (حَضَراتُ القُدْس، دفتر دُوُم ص۲۰۸)
نمازِ جَنازہ و تَدفین
آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی نمازِ جنازہ آپ کے شہزادے حضرت خواجہ محمد سعید علیہ رحمۃ اللّٰہ المجید نے پڑھائی۔ اس کے بعد شہزادۂ مرحو م حضرت خواجہ محمد صادق عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الرَزَّاق کے پہلو میں دفن کردیا گیا۔ یہ وہی مقام تھا جہاں حضرت سیِّدُنا مجدد الف ثانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِینے اپنی زندگی میں ایک نور دیکھا تھا اور وصیت فرمائی تھی : ’’میری قبرمیرے بیٹے کی قبر کے