Brailvi Books

تذکرہ مُجَدِّدِ اَلْفِ ثانی
35 - 42
٭احکامِ شریعت کی صحیح نوعیت علمائے آخرت سے معلوم کیجیے ان کے کلام میں ایک تاثیر ہے،   شاید ان کے مبارک کلما ت کی برکت سے عمل کی بھی توفیق مل جائے ۔   (ایضاً،   حصہ دوم،  مکتوب۷۳ ج۱ص۵۹)  
٭ تمام کاموں میں ان باعمل علمائے کرام کے فتاوٰی کے مطابق زندگی بسر کرنی چاہئے جنہوں نے ’’عزیمت‘‘ کا راستہ اختیار کر رکھا ہے اور ’’رخصت‘‘ سے اجتناب کرتے (یعنی بچتے)   ہیں نیزاس کو نجاتِ ابدی و اُخروی کاذریعہ و وسیلہ قرار دینا چاہیے۔   (ایضاً،  مکتوب۷۰ ج۱ص۵۲)  
٭ نجاتِ آخرت تما م افعال و اقوال،  اصول و فرو ع میں اہلسنّت کی پیروی کرنے پر موقوف ہے ۔   (ایضاً،   مکتوب۶۹ ج۱ص۵۰)  
٭ سرکار دوعالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کاسایہ نہ تھا۔   (ایضاً،  دفتر سوم ،  حصہ نہم،  مکتوب۱۰۰ ج۲ص۷۵)  
٭ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اپنے خاص علمِ غیب پر اپنے خاص رسولوں کو مطلع (یعنی باخبر)   فرماتا ہے۔    (ایضاً،  دفتر اول،  حصہ پنجم،  مکتوب۳۱۰ ج۱ص۱۶۰)  
٭حضورشاہِ خیر الانام صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے تمام صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم اَجْمَعِیْنَ کوذِکرِ خیر (بھلائی)   کے ساتھ یاد کرنا چاہئے۔   (ایضاً،  حصہ چہارم،  مکتوب ۲۶۶ ج۱ص ۱۳۲)  
٭ صحابۂ کرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ میں سب سے افضل حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رضی  اللہ تعالٰی عنہ  ہیں پھر ان کے بعد سب سے افضل سیِّدُنا فاروق اعظم رضی  اللہ تعالٰی عنہ ہیں ،   ان دونوں باتوں پر صحابۂ کرام اور تابعین کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کا اجماع  ہے،   نیز امام اعظم ابو حنیفہ و امام شافعی و امام مالک و امام احمد بن حنبل رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی علیھم اَجْمَعِیْنَ
اور اکثر علمائے اہلسنّت کے نزدیک