Brailvi Books

تذکرہ مُجَدِّدِ اَلْفِ ثانی
34 - 42
خود ارشاد فرماتے ہیں :   ’’ہر وہ چیز جس میں محبوب کے اخلاق و عادات پائی جائیں محبوب کے ساتھ وابستگی اور اس کے تابع ہونے کی وجہ سے وہ بھی محبوب اور پیاری ہوجاتی ہے،   اس کی طرف اس آیت میں اشارہ فرمایا گیا ہے:  
فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ  (پ۳،  اٰلِ عمرٰن:  ۳۱)  
ترجَمۂ کنزالایمان:   تو میرے فرمانبردار ہوجاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا۔  
لہٰذا اللہ تَعَالٰی  کے پیارے نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی پیروی میں کوشش کرنا بندے کو مقامِ محبوبیت تک لے جاتا ہے،   تو ہر عقلمند پر لازم ہے کہ اللہ تَعَالٰی کے حبیب  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے اتباع میں ظاہراً و باطناً پوری کوشش کرے۔  ‘‘ (مکتوباتِ امام ِربّانی،   دفتر اول،   حصہ دوم،   مکتوب۴۱ ج۱ص۵)  
تصانیف
     آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی تصانیف میں سے فارسی ’’مکتوبات امام ربّانی‘‘ زیا دہ مشہو ر ہوئے ۔   ان کے عر بی،   اردو،  ترکی اورانگریزی زبانوں میں تراجم بھی شائع ہو چکے ہیں ۔   آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے چاررسائل کے نام مُلاحَظہ ہوں :    (۱)  اِثْباۃُ النُّبُوَّۃ  (۲)   رِسالہ تَہْلِیْلِیَّہ   (۳)   معارفِ لَدُنِّیَّہ  (۴)   شرحِ رُباعیات ۔   
 مجدّدِ الفِ ثانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی  کے 11 اَقوال
      ٭حلال و حرام کے معاملے میں ہمیشہ باعمل علما سے رجوع کرنا چاہیے اور ان کے فتاوٰی کے مطابق عمل کرنا چاہیے کیونکہ نجات کا ذریعہ شریعت ہی ہے ۔   (ایضاً،   حصہ سوم،  مکتوب۱۶۳ ج۱ص۴۶)