Brailvi Books

تذکرہ مُجَدِّدِ اَلْفِ ثانی
33 - 42
تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا کہ:  ’’ عمامہ باندھنا اِختیار کرو کہ یہ فرشتوں کا نشان ہے اور اس  ( شملے)   کو پیٹھ کے پیچھے لٹکالو۔   ‘‘ (شعب الایمان ج۵ص۱۷۶حدیث:  ۶۲۶۲)   ’’بہارِ شریعت ‘‘میں ہے کہ عمامہ باندھنا سنّت ہے۔   (بہار شریعت ج ۳ص۴۱۸)   ان اَحکام سے یہی ظاہر ہے کہ مسلمان خواہ عالم ہو یا چاہے جاہل سب کو عمامہ باندھنے کا حکم ہے۔   (فتاوٰی بحرالعلوم ج۵ص۴۱۱ ملخّصًا)   
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!   	صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
اتّباعِ سنّت عشقِ رسول کی علامت
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!   سچے عاشق رسول کی علامت یہ ہے کہ وہ اپنی زندگی نبی رحمت،   شفیع امت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی سنّت کے مطابق گزارنے کی کوشش کرتا ہے،   یوں سنت نبوی کو عملی طور پر اپنانے کی وجہ سے عاشقِ صادق کا دل عشق مصطفے میں تڑپتا ہے ۔  حضرت سیِّدُنا  مجدد الف ثانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی  کا ہر عمل سنت مصطفے کی عملی تصویر ہوا کرتا ،  آپ    اپنی گفتگو ،  چلنے پھرنے اور زندگی کے دیگر معمولات سنّت کے مطابق گزارتے،   سنّتوں کی برکت سے آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو جو مقام و مرتبہ نصیب ہوا اس کے متعلّق آپ خود ارشاد فرماتے ہیں :   نبی ٔ کریم ،  رء وف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے کمالِ اتباع (یعنی مکمل پیروی)   کی وجہ سے مجھے ایسے مقام سے سرفراز کیا گیا جو ’’ مقامِ رضا‘‘ سے بھی بلند وبالا ہے۔   (حَضَراتُ القُدْس،   دفتر دُوُم ص۷۷)   سنّتوں کے مطابق زندگی گزارنا بہت بڑی سعادت ہے کہ اس کی برکت سے مقام ِ محبوبیت نصیب ہوتا ہے جیسا کہ آپ رحمۃ اللہ