سے فضائل بیان کیے گئے ہیں : چنانچہ
باعمامہ نماز دس ہزار نیکیوں کے برابر
رسولِ اکرم، نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: عمامے کے ساتھ نَماز دس ہزار نیکی کے برابر ہے۔ (اَلْفِرْدَوْس بمأثور الْخطّابً ج۲ص۴۰۶حدیث۳۸۰۵ ، فتاوٰی رضویہ مُخَرَّجہ ج۶ص۲۱۳)
کیا عمامہ صرف علما ہی باندہیں ؟
حضرت علامہ مفتی محمد وقارُا لدین قادری رضوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں : عمامہ صرف علما و مشائخ ہی کے لئے نہیں بلکہ تمام مسلمانوں کے لئے سنّت ہے اور عمامے کی فضیلت اور عمامہ باندھ کر نماز پڑھنے کی فضیلت احادیث میں بیان کی گئی ہے اس لئے ہر بالغ مرد کے لئے عمامہ باندھنا ثواب کا کام ہے اور اچھے کام کی عادت ڈالنے کے لئے بچوں کو بھی اس کی تعلیم دینی چاہئے۔ (وقارالفتاوٰی ج۲ ص۲۵۲)
عالم اورجاہل سب عمامہ باندھیں
بَحْرُالعُلُوم حضرت علامہ مفتی عبدالمنان اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی ایک سوال (عام مسلمان یعنی غیر عالم کو عمامہ باندھنا سنّت ہے یا نہیں ؟) کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں : ہر مسلمان چاہے عالم ہویا غیرِ عالم اسے عمامہ باندھنا سنّت ہے، امام بیہقی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے شُعَبُ الایمان میں حضرت (سیِّدُنا) عُبادہ بن صامِت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عنہسے روایت کی کہ رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللہُ