٭آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ چونکہ حافظِ قراٰن تھے اس لئے اکثر تلاوتِ قراٰنِ کریم کا سلسلئہ جاری رہتا ٭دورانِ سفر بھی تلاوت فرماتے اور اگر اس دوران آیتِ سجدہ آجاتی تو فوراً سواری سے اتر کر سجدۂ تلاوت ادا فرماتے ٭ انفرادی نماز میں رکوع و سجود کی تسبیحات پانچ ، سات ، نو یا گیارہ مرتبہ تک ادا فرماتے ٭سفر کے لئے اکثر آپ پیر یا جمعرات کے دن کا انتخاب فرماتے ٭کپڑا پہننے ، آئینہ دیکھنے ، پانی پینے، کھانا کھانے ، چاند دیکھنے اور دیگر معمولات میں جو مسنون دعائیں مروی ہیں ان کا اہتمام فرماتے ٭نماز کی تمام سنتوں اور مستحبات کا خوب اہتمام فرماتے ٭جب کوئی بزرگ آپ سے ملاقات کے لئے تشریف لاتے تو تعظیماً کھڑے ہو جاتے ٭سلام میں ہمیشہ پہل فرماتی٭علامہ بدر الدین سرہندی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : مجھے علم نہیں کہ کبھی کوئی شخص سلام میں آپ سے سبقت لے گیا (یعنی پہل کرنے میں کامیاب ہوا) ہو ٭ سر پر عمامہ شریف سجائے رکھتے ٭پاجامہ ہمیشہ ٹخنوں سے اوپرہوا کرتا۔ (حَضَراتُ القُدْس، دفتر دُوُم ص۸۰ تا۹۲مُلَخَّصًا)
حضرت مجدّد الف ثانی کا عمامہ شریف
حضرت سیِّدُنا امامِ ربانی ، مجددِ الفِ ثانی ، شیخ احمدفاروقی سرہندی نقشبندی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِیکے متعلق منقول ہے کہ عمامہ شریف آپ عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی کے سرِ مبارک پر ہوتا اورشملہ دونوں کندھوں کے درمیان ہوتا۔ (ایضاًص۹۲ مُلَخَّصًا)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! احادیثِ مبارکہ میں عمامہ شریف باندھنے کے بہت