Brailvi Books

تذکرہ مُجَدِّدِ اَلْفِ ثانی
30 - 42
 پھردائیں یابائیں جانب رخ فرما کر دعا فرماتے اور دعا کے بعد دونوں ہاتھ چہرے پر پھیر لیتے ٭نماز کے بعد ذِکر،   تلاوتِ قراٰنِ کریم کاحلقہ قائم کرتے اورابتدائی طالب علموں کی تربیت فرماتے ٭آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  اکثر خاموش رہا کرتے ٭بعض اوقات آپ پر گریہ (یعنی رونا)   طاری ہو جاتا اور آنکھوں سے سیلِ اشک رواں ہو جایا کرتا (یعنی خوب روتے)   ٭نمازِ چاشت پابندی سے ادا فرماتے ٭آپ نہایت ہی کم کھانا تناول فرماتے ٭کھانے سے پہلے اور بعد کی دعائیں پڑھتے ٭  (دن میں )   کھانے کے بعد تھوڑی دیر کے لئے قیلولہ فرماتے ٭اذان سن کر جواب دیتے ٭نمازِ ظہر کے بعد پھرذِکرالٰہی کا حلقہ قائم کرتے،   اس کے بعد ایک دو سبق کی تدریس فرماتے ٭تحیۃُ المسجد پابندی سے ادا فرماتے ٭نمازِ مغرب کے بعد اَوَّابین کے چھ نوافل ادا فرماتے ٭نمازِوتر کی ادائیگی کے بعد سنّت کے مطابق قبلہ رخ ہو کر سیدھا ہاتھ دائیں رخسار کے نیچے رکھ کر آرام فرماہوتے ٭سورج یا چاند گرہن ہونے پر نمازِ کسوف و خسوف ادا فرماتے ٭آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ رَمَضانُ الْمُبارَک کے آخری عشرے میں اعتکاف فرماتے ٭ذوالحجہ کے ابتدائی عشرے  (یعنی شروع کے دس دن)   میں مخلوق سے کنارہ کش ہو کر عبادت کا اہتمام فرماتے ٭کثرت سے دُرُودِ پاک پڑھتے اور خصوصا شبِ جمعہ مریدوں کے ساتھ مل کر ایک ہزار درودِ پاک کا نذرانہ بارگا ہ رسالت میں پیش کرتے ٭سفر و حضر میں تراویح کی مکمل بیس رکعتیں خشوع و خضوع سے ادا فرماتے ٭رمضانُ الْمُبارَک میں کم از کم تین مرتبہ قراٰنِ کریم کا ختم فرماتے