Brailvi Books

تذکرہ مُجَدِّدِ اَلْفِ ثانی
29 - 42
حافِظِ قراٰن کا ادب 
	ایک مرتبہ ایک حافِظ صاحب حضرتِ سیِّدُنا مجدد اَلف ثانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی کے پاس بیٹھ کر قراٰنِ کریم کی تلاوت کر رہے تھے۔   آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے جب ان کی طرف نگاہ فرمائی تو دیکھا کہ جس جگہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ تشریف فرماہیں وہ جگہ حافظ صاحب والی جگہ سے تھوڑی اونچی ہے۔   آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فوراً اپنی نشست (یعنی بیٹھک)   نیچی کردی۔     ( زُبْدَۃُ الْمَقامات  ص۱۹۵)   
مُجدِّد اَلْفِ ثانی کے 40 معمولات
٭ سفر ہو یا حضر ،   سردی ہو یا گرمی ،  آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  آدھی رات کے بعد بیدار ہو جاتے اورمسنون دعائیں پڑھتے ٭پابندی سے تہجد ادا فرماتے اور تہجد میں طویل قرائَ ت کرتے ٭قبلہ رو بیٹھ کر وضو فرماتے اور ٭وضو میں کسی سے مدد نہ لیتے ٭وضو میں مسواک فرماتے،  فراغت کے بعد کاتب (یعنی لکھنے والے)   کی طرح مسواک کبھی کان پر لگا لیتے اور کبھی خادم کے سپرد فرما دیتے ٭وضو کے دوران تمام سنن و مستحبات کا خوب خیال فرماتے ٭ اعضائے وضو دھوتے وقت اوروضو کے بعد مسنون دعائیں پڑھتے ٭نماز کے لئے عمدہ لباس زیبِ تن فرماتے اور نہایت وقار کے ساتھ نمازکی ادائیگی کے لئے تیّار ہو جاتے ٭نمازِ فجر کی سنتیں گھر میں ادا فرماتے ٭فجر کے فرض مسجد میں جماعتِ کثیرہ (یعنی بہت بڑی جماعت)   کے ساتھ ادا فرماتے ٭نمازسے فراغت کے بعد مسنون دعائیں پڑھتے،