Brailvi Books

تذکرہ مُجَدِّدِ اَلْفِ ثانی
28 - 42
فرماتے ہیں :  ’’جوانی کی ابتدا جس طرح ہوا وہوس (یعنی خواہشات کے ابھرنے )   کا وقت ہے،   اسی طرح علم وعمل کواپنانے کا بھی یہی وقت ہے،   جوانی میں کی جانے والی عبادات بڑھاپے کی عبادات سے افضل ہیں ۔  ‘‘ (مکتوباتِ امام ِربّانی،  دفتر سوم ،  حصہ ہشتم،  مکتوب۳۵ ج ۲ص۸۷ ملخّصًا)  
جوانی نعمتِ خداوَندی
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو !  ایّامِ جوانی کے اَوقات کی قدْر دانی بہت ضروری ہے کیونکہ جوانی میں انسان کے اَعضا مضبوط اور طاقتورہوتے ہیں ،   جس کی وجہ سے اَحکام وعبادات کی بجاآوری،   خوش اُسلوبی کے ساتھ ممکن ہوتی ہے،   بُڑھاپے میں یہ بہاریں کہاں نصیب!   اُس وقْت تو مسجد تک جانا بھی دشوار ہو جاتاہے۔   بھوک پیاس کی شدّت برداشْت کرنے کی بھی ہِمّت نہیں رہتی،   نفْل تو کُجا فرْض روزے پورے کرنے بھی بھاری پڑجاتے ہیں ۔   جوانی اللہ عَزَّ وَجَلَّکی بہت بڑی نعمت ہے،   جسے یہ نعمت ملے اُسے اِس کی قدْر کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ وَقْت عبادت واِطاعت میں گزارنا چاہئے،  اوقات کے اَنمول ہیروں کو نفع مندبنانا چاہئے۔   حکیم ُ الا ُمّت حضرت مفتی احمدیار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحَنّان نقل فرماتے ہیں :  ’’ جوانی کی عبادت بڑھاپے کی عبادت سے افضل ہے کہ عبادات کا اصل وقت جوانی ہے۔  شعر
کر جوانی میں عبادت کاہلی اچھی نہیں 		جب بڑھاپا آگیا کچھ بات بن پڑتی نہیں 
ہے بڑھاپا بھی غنیمت جب جوانی ہوچکی		 یہ بڑھاپا بھی نہ ہوگا موت جس دم آگئی
وقت کی قدر کرو،  اسے غنیمت جانو،   گیا وقت پھر ہاتھ آتا نہیں ۔  ‘‘  ( مراٰۃ المناجیح ج۳ص۱۶۷)