Brailvi Books

تذکرہ مُجَدِّدِ اَلْفِ ثانی
25 - 42
 وہ بیدا ر ہوا تو اس کادل صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکی محبت سے معمور تھا اور آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی محبت بھی سوگنا زیادہ بڑھ چکی تھی۔    (حَضَراتُ القُدْس،   دفتر دُوُم  ص۱۶۷ مُلَخَّصًاً )  
{۹}  اپنی وفات کی پہلے ہی خبر دیدی (حکایت)  
	حضرت  سیِّدُنا مجدّدِاَلف ثانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِینے اپنے انتقِال سے بہت پہلے ہی اپنی زوجۂ محترمہ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہاسے فرما دیا تھا کہ مجھ پر ظاہِر کردیا گیا ہے کہ میرا اِنتقال تم سے پہلے ہوجائے گا چُنانچِہ ایسا ہی ہوا کہ آپ  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ان سے پہلے وصِال  (یعنی انتقال )   فرماگئے۔       (ایضاً ص۲۰۸ مُلَخَّصًا)  
مِٹی کا کونا ٹوٹا ہوا پیالہ  (حکایت)  
سلسلئہ عالِیہ نَقْشْبَنْدِیَّہ کے عظیم پیشواحضرتِ سیِّدُنا مُجدِّد اَلْفِ ثانیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِینے ایک دن عام بَیتُ الْخَلا میں بھنگی کے پاس صَفائی کیلئے گندگی سے آلود بڑا سا مِٹّی کا کونا ٹوٹا ہوا پِیالہ رکھا  دیکھا تو بیتاب ہو گئے کیونکہ اُس پیالے پرلَفْظْ،  اللہ کَنْدَہ تھا !  لپک کرپیالہ اُٹھالیا اور خادِم سے پانی کا آفتابہ  (یعنی ڈھکَّن والا دَستہ لگا ہوا لوٹا)  منگوا کر اپنے دستِ مبارَک سے خوب مَل مَل کر اچھی طرح دھو کر اُس کو پاک کیا،   پھر ایک سفید کپڑے میں لپیٹ کر اَدَب کے ساتھ اُونچی جگہ رکھ دیا۔   آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اُسی پیالے میں پانی پیا کرتے۔   ایک دناللہکی طرف سے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو اِلْہام فرمایا گیا :   ’’ جس طرح تم نے میرے نام کی تَعظِیم کی میں بھی دنیا وآخِرت میں تمہارا نام اُونچا کرتا ہوں ۔  ‘‘ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرمایا کرتے