Brailvi Books

تذکرہ مُجَدِّدِ اَلْفِ ثانی
26 - 42
تھے:  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے نامِ پاک کا اَدَب کرنے سے مجھے وہ مقام حاصل ہوا جو سو سال کی عبادت و رِیاضت سے بھی حاصل نہ ہو سکتا تھا۔  ‘‘  (ایضاً ص۱۰۶)  
سادہ کاغذ کا بھی ادب
	سلسلئۂ عالیہ نقشبندیہ کے عظیم پیشوا حضرتِ سیِّدُنا شیخ احمد سر ہندی المعروف مجدد اَلف ثانیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیسادہ کاغذ کا بھی احتِرام فرماتے تھے،   چُنانچِہ ایک روز اپنے بچھونے پر تشریف فرماتھے کہ یکایک بے قرار ہو کر نیچے اُتر آئے اور فرمانے لگے:   معلوم ہو تا ہے،   اِس بچھونے کے نیچے کوئی کاغذ ہے۔    (زُبْدَۃُ الْمَقامات  ص۱۹۴)   
راہ چلتے ہوئے کاغذات کو لات مت ماریئے
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  معلوم ہوا،   سادہ کاغذ کا بھی اَدَب ہے اور کیوں نہ ہو کہ اِس پر قراٰن و حدیث اور اسلامی باتیں لکھی جاتی ہیں ۔   اَلْحَمْدُ للہ عَزَّوَجَلَّبیان کردہ حکایت میں حضرت سیِّدُنا مجدد اَلف ثانیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیکی کھلی کرامت ہے کہ بچھونے کے نیچے کے کاغذ کا ظاہری طور پر بن دیکھے پتا چل گیا اور آپ نیچے اُترآئے تا کہ غلاموں کو بھی کاغذات کے اَدَب کی ترغیب ملے۔  ’’بہار ِشریعت‘‘ جلد اوّل صفحہ 411 پر ہے:   ’’کاغذ سے اِستِنجا مَنْع ہے اگر چِہ اُس پر کچھ بھی نہ لکھا ہو یا ابوجَہْل ایسے کافِر کا نام لکھا ہو۔  ‘‘ 
حُروف کی تعظیم کی جائے
	فتاوٰی رضویہ شریف میں ہے:  ’’ہمارے عُلَما تصریح (یعنی واضِح طورپر)  فرماتے ہیں کہ