Brailvi Books

تذکرہ مُجَدِّدِ اَلْفِ ثانی
24 - 42
 آئے۔  آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  نہایت جلال میں اس کے دونوں کان پکڑ کر فرمانے لگے:   ’’تو ہماری تحریر پر اعتراض کرتا اور اسے زمین پر پھینکتا ہے !  اگر تو میرے قول (یعنی بات)   کو معتبر نہیں سمجھتا تو آ !  تجھے حضرت سیِّدُنا علیُّ المُرتَضٰی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمہی کے پاس لے چلوں ،  جن کی خاطر تو صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکو برا کہتا ہے ۔  ‘‘پھر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہاسے ایسی جگہ لے گئے جہاں ایک نورانی چہرے والے بزرگ تشریف فرماتھے۔   حضرت سیِّدُنا مجدّدِاَلف ثانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی نے نہایت عاجزی سے اُس بزرگ کو سلام کیا پھر اس شخص کو نزدیک بلاکر فرمایا:  یہ تشریف فرما بزرگ حضرت سیِّدُنا علیُّ المُرتَضٰی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمہیں ،  سن!  کیا فرماتے ہیں ۔  اُس شخص نے سلام کیا،  سیِّدُنا شیر خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے اسے سلام کا جواب دینے کے بعد فرمایا:  خبردار !    رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے صحابہ سے کدورت (یعنی رنجش)   نہ رکھو،  ان کے بارے میں کوئی گستاخانہ جملہ زبان پرنہ لاؤ ۔   پھرحضرت مجدّدِاَلف ثانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی کی جانب اشارہ کرکے اُس سے فرمایا:  ’’ان کی تحریر سے ہرگز نہ پھرنا  (یعنی مخالفت مت کرنا)  ۔  ‘‘اس نصیحت کے بعد بھی اس کے دل سے صحابۂ کرام کا کینہ دور نہ ہوا تو مولائے کائنات حضرت سیِّدُناعلیُّ المُرتَضٰیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے فرمایا:  اس کا دل ابھی تک صاف نہیں ہوا ۔   یہ فرماکرحضرت سیِّدُنا مجدّدِاَلف ثانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی سے تھپڑرسید کرنے کافرمایا ،  حکم کی تعمیل کرتے ہوئے جوں ہی آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے گدی پر تھپڑ مارا تو دل سے صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکی ساری کدورت (یعنی نفرت)   دُھل گئی۔  جب