Brailvi Books

تذکرہ مُجَدِّدِ اَلْفِ ثانی
23 - 42
 کسی وادی سے گزر رہے تھے کہ اچانک ایک شیر سامنے آگیا!   اُن کے قدم وہیں جم گئے ،   آناً فاناً اپنے مرشد حضرت مجدّدِاَلف ثانی کی بارگا ہ میں عرض کی:  بچائیے!  اُسی وقت حضرت    سیِّدُنا مجدّدِاَلف ثانی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  ہاتھ میں عصا  (STICK)  تھامے اپنے مرید کی دست گیری (یعنی مدد )   کے لیے تشریف لے آئے ،   شیر کو عصا مار ا،  جب سیدجمال صاحب نے آنکھ کھولی تو شیر کا کہیں نام و نشان نہ تھا اور حضرت مجدّدِاَلف ثانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی    بھی تشریف لے جا چکے تھے۔   ( زُبْدَۃُ الْمَقامات ص۲۶۳ مُلَخَّصًاً)        ؎
شیروں پہ شرف رکھتے ہیں دربار کے کتے	شاہوں سے بھی بڑھ کر ہیں گدایانِ محمد
 صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!   	صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
{۸}  بد عقیدگی کاخواب میں علاج فرمادیا  (حکایت)  
     ایک شخص بعض صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان الخصوص حضرت سیِّدُنا امیر معاویہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مَعَاذَ اللہ عَزَّوَجَلَّ کینہ رکھتا تھا۔   ایک دن وہ ’’ مکتوباتِ امام ربانی‘‘کا مطالعہ کررہا  تھا،  کہ اس میں یہ عبارت پڑھی:  ’’حضرت سیِّدُنا امام مالک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے حضرتِ سیِّدُنا امیر معاویہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  کو بُرا کہنے کو حضرت سیِّدُنا صدیق اکبر،  حضرت سیِّدُنا فاروق اعظم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عنھما کو برا کہنے کے برابر قرار دیا ہے۔  ‘‘  تو وہ آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے رنجیدہ ہو گیا اور (مَعَاذَ اللہ عَزَّوَجَلَّ)  مکتوبات شریف کی کتاب زمین پر پھینک دی۔  جب وہ شخص سویا تو حضرت سیِّدُنا مجدّدِاَلف ثانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی اُس کے خواب میں تشریف لے