سے یہاں آیاہے لہٰذا اِس فقیر نے اپنی ضَمانت میں لے کر اسے اس مصیبت سے رہائی دے دی ۔ ‘‘ وہ امیر زادہ جیسے ہی بادشاہ کے دربار میں پہنچا توآپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے اِرشاد کے مطابِق بادشاہ نے اُسے دیکھا تو مسکرایا اور نصیحت کے طور پر چند باتیں کہیں اور نہایت مہربانی کے ساتھ اِنعام و اِکرام سے نواز کر رخصت کردیا۔ (حَضَراتُ الْقُدْس، دفتر دُوُم ص ۱۷۰ ملخّصاً )
{۴} بچّے کے بارے میں غیبی خبردی (حکایت)
حضرت سیِّدُنا مجدّدِاَلف ثانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی کے ایک عزیز کے ہاں بیٹا پیدا تو ہوتا لیکن چھوٹی عمر میں ہی فوت ہو جاتا۔ ایک بار جب بیٹا پیدا ہوا تو وہ بچّے کو لے کر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی خدمتِ بابرکت میں حاضِر ہوا اور سارا ماجرا سنایااور عرض کی کہ ہم نے مَنَّت مانی ہے کہ اگر یہ بچّہ بڑا ہوا تو ہم اسے آپ کی غلامی میں دے دیں گے۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ارشاد فرمایا: ’’اس کا نام عبد الحق رکھو، یہ زندہ رہے گا اور بڑی عمر پائے گا، لیکن ہر ماہ حضرت خواجہ بہاء ُالدّین نقشبند عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الصَّمَد کی نیاز دلواتے رہو۔ ‘‘اَلْحَمْدُلِلّٰہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے فرمان کی بَرَکت سے وہ بچّہ بڑی عمر کو پہنچا۔ (ایضاً ص ۲۰۵ ملخّصاً )
{۵} دل کی بات جان لی! (حکایت)
حضرت سیِّدُنا مجدّدِاَلف ثانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی کے ایک مُرید کا بیان ہے کہ میں چُھپ کر افیون کھایا کرتا تھا اور اس بارے میں کسی کو بھی معلوم نہیں تھا۔ ایک دن میں آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے ہمراہ جارہا تھا تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے میری طرف دیکھ کر فرمایا: کیا